افتخار احمد

افتخار احمد

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے

یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے ہم خواب بیچنے سرِ بازار آ گئے یوسف نہ تھے مگر سرِ بازار آ گئے خوش فہمیاں یہ تھیں کہ خریدار آ گئے اب دل میں حوصلہ نہ سکت بازوؤں میں ہے اب کہ مقابلے پہ میرے یار آ گئے آواز د کے چھپ گئی ہر بار زندگی ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آ گئے ہم کج ادا چراغ کہ جب بھی ہوا چلی تاکوں کو چھوڑ کر سرِ دیوار آ گئے سورج کی روشنی پہ جنہیں ناز تھا فراز وہ بھی تو زیرِ سایہ دیوار آ گئے

شاعر: احمد فراز — پیشکش: افتخار احمد

‹ کلام کی فہرست پر واپس