افتخار احمد

افتخار احمد

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

یوں ہی ٹھہری کہ ابھی جائیے گا

یوں ہی ٹھہری کہ ابھی جائیے گا بات جو ہو گی، سو فرمائیے گا میں جو پوچھا، کبھو آؤ گے؟ کہا جی میں آ جائے گی، تو آئیے گا میں خُدا جانے یہ کیا دیکھوں ہوں آپ کچھ جی میں نہ بھرمائیے گا میری ہونے سے عبث رُکتے ہو پھر اکیلے بھی تو گھبرائیے گا کہیں ہم کو بھی، بھلا لوگوں میں پھرتے چلتے نظر آئیے گا درد! ہم اس کو تو سمجھائیں گے پر اپنے تئیں آپ بھی سمجھائیے گا

شاعر: خواجہ میر درد — پیشکش: افتخار احمد

‹ کلام کی فہرست پر واپس