شہر کے دوسرے کنارے سے
شہر کے دوسرے کنارے سے اک اشارہ ہے اک شرارے سے گاوں کا حسن پھر نکھر آیا اپنی دیواریں دھو کے گارے سے اس پہ نسلیں پلیں پرندوں کی جو شجر کٹ گیا ہے آرے سے
‹ کلام کی فہرست پر واپس
مقرر — ایکس پروفائل
شہر کے دوسرے کنارے سے اک اشارہ ہے اک شرارے سے گاوں کا حسن پھر نکھر آیا اپنی دیواریں دھو کے گارے سے اس پہ نسلیں پلیں پرندوں کی جو شجر کٹ گیا ہے آرے سے
‹ کلام کی فہرست پر واپس