پیش کردہ کلام
- 01 جبرکا موسم کب بدلے گا ہم بدلیں گے تب بدلے گا
- 02 سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
- 03 اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
- 04 اس نے بالوں میں جو اک پھول لگایا ہوا ہے
- 05 ایک دوجے کو بوڑھا ہوتے دیکھا ہے
- 06 خدا ہی جانے کہ ان کی سزائیں کیا ہوں گی
- 07 دلِ مکار کو مکار پکارا جائے
- 08 کاش میں تیرے حسین ہاتھ کا کنگن ہوتا
- 09 ہم نے نیکی کا کوئی کام کیا ہو گا وصی
- 10 ہوش والوں پہ وہ کچھ ایسا فسوں کرتا تھا
- 11 یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے