باقر مہدی — شاعر کی تصویر

میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سے — باقر مہدی

شاعر

تعارف شاعری

میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سے

میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سے
جیتا ہوں مصائب کی بقا میرے لیے ہے
سچ بولنے والے کو ڈراتے ہو ستم سے
رک جاؤ ٹھہر جاؤ جزا میرے لیے ہے
افسوس کٹی عمر کتب خانوں میں لیکن
یہ وسعت صحرا یہ فضا میرے لیے ہے
میں راہ یگانہ پہ ہمیشہ سے چلا ہوں
رسوائی تباہی تو سدا میرے لیے ہے
مجرم ہوں کہ فاشزم کے سائے میں ہوں جیتا
باقرؔ کو بچا لو یہ سزا میرے لیے ہے

Main bhaag ke jaaun ga kahan apne watan se

Main bhaag ke jaaun ga kahan apne watan se
Jeeta hoon masaib ki baqa mere liye hai
Sach bolne wale ko darate ho sitam se
Ruk jaao Thehr jaao jaza mere liye hai
Afsos kaTi umr kutub-khanon mein lekin
Yeh wusat-e-sahra yeh fiza mere liye hai
Main raah-e-yagana pe hamesha se chala hoon
Ruswai tabahi to sada mere liye hai
Mujrim hoon ke fascism ke saaye mein hoon jeeta
Baqirؔ ko bacha lo yeh saza mere liye hai

شاعر کے بارے میں

باقر مہدی

باقر مہدی اردو کے معروف شاعر، نقاد، دانش ور اور جدید حسیت کے نمائندہ ادیب تھے، جنہوں نے اپنی بے باک فکر، خوددار مزاج اور غیر مصلحت پسند رویّے کے باعث اردو ادب میں منفرد مقام حاصل کیا۔ وہ 11 فروری 1927ء کو رُدولی، ضلع بارہ بنکی، اتر پردیش میں ایک علمی اور زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد رزم رودولوی خود شاعر تھے، اس لیے گھر کا ماحول ادبی ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام