راجا اکرام قمر

راجا اکرام قمر

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

دور ہیں وہ اور کتنی دور

دور ہیں وہ اور کتنی دور پھر بھی مری نظروں کے حضور رنج و مصیبت جور و ستم آپ کی خاطر سب منظور دل پر بیتے لب پہ نہ آئے ہائے محبت کا دستور حسرت دید از دید بلند حور سے بہتر وعدۂ حور پردۂ رنگ و بو تو اٹھاؤ ہوگا کوئی نہ کوئی ضرور دور ترقی کیا ہے شکیلؔ دنیا کی عقلوں کا فتور

شاعر: شکیل بدیوانی — پیشکش: راجا اکرام قمر

‹ کلام کی فہرست پر واپس