دور ہیں وہ اور کتنی دور
دور ہیں وہ اور کتنی دور پھر بھی مری نظروں کے حضور رنج و مصیبت جور و ستم آپ کی خاطر سب منظور دل پر بیتے لب پہ نہ آئے ہائے محبت کا دستور حسرت دید از دید بلند حور سے بہتر وعدۂ حور پردۂ رنگ و بو تو اٹھاؤ ہوگا کوئی نہ کوئی ضرور دور ترقی کیا ہے شکیلؔ دنیا کی عقلوں کا فتور
‹ کلام کی فہرست پر واپس