لگتا ہے کر کے لمبا سفر آ رہا ہوں میں
جھ تک رسائی سہل نہیں ہے ادھر نہ آ تو خود کہاں کھڑا ہے ٹھہر آ رہا ہوں میں ہر روز کیوں پگھل کے ٹپکتا ہوں آنکھ سے کیسی تپش کے زیر اثر آ رہا ہوں میں کچھ بھی یہاں نیا نہیں لگتا مجھے عمیرؔ شاید زمیں پہ بار دگر آ رہا ہوں میں
‹ کلام کی فہرست پر واپس