راجا اکرام قمر

راجا اکرام قمر

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزرا

نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزرا ہمارے توبہ کر لینے سے پیمانے پہ کیا گزرا برہمن سر کو اپنے پیٹتا تھا دیر کے آگے خدا جانے تری صورت سے بت خانے پہ کیا گزرا مجھے زنجیر کر رکھا ہے ان شہری غزالوں نے نہیں معلوم میرے بعد ویرانے پہ کیا گزرا ہوئے ہیں چور میرے استخواں پتھر سے ٹکرا کے نہ پوچھا یہ کبھی تو نے کہ دیوانہ پہ کیا گزرا یقیںؔ کب یار میرے سوز دل کی داد کو پہنچے کہاں ہے شمع کو پروا کہ پروانہ پہ کیا گزرا

شاعر: انعام اللہ خاں یقین — پیشکش: راجا اکرام قمر

‹ کلام کی فہرست پر واپس