شارق کیفی

شارق کیفی

شاعر — Shariq Kaifi

تعارف شاعری

بات کرتے تھے اور پتھر تھے

بات کرتے تھے اور پتھر تھے لوگ باہر نہیں تھے اندر تھے پیچھے پیچھے جو چل رہے تھے مرے وہ تماشائی تھے کہ بے گھر تھے سارا گھر سو رہا تھا آنگن میں کیسے ترتیب وار بستر تھے رات چھوٹی بڑی تو ہوتی تھی خواب سب نیند کے برابر تھے یہ تو لکھنے کو مجھ سے چھوٹ گیا بیچ میں جنگ کے بھی منظر تھے

— شارق کیفی

English rendering

baat karte the aur patthar the log bāhar nahīñ the andar the pīchhe-pīchhe jo chal rahe the mire vo tamāshā.ī the ki be-ghar the saarā ghar so rahā thā āñgan meñ kaise tartīb-vār bistar the raat chhoTī baḌī to hotī thī ḳhvāb sab niiñd ke barābar the ye to likhne ko mujh se chhūT gayā biich meñ jang ke bhī manzar the

‹ کلام کی فہرست پر واپس