کلامِ شاعر
- 01 میرے حصے کی گالی
- 02 کوئی اور رد عمل
- 03 عبادت کا سچ
- 04 اصل خطرہ
- 05 آزادی
- 06 مگر اٹھ کر کروں کیا
- 07 کھلونا موت بھی ہے
- 08 اصل صدمہ
- 09 ضبط کا خرچ
- 10 دروازے پر بستر
- 11 گھر کے آگے بھیڑ نہیں ہونے كا مطلب
- 12 انا کا کون سا چہرہ تھا وہ
- 13 اگر ہم واپسی بھی ساتھ کرتے
- 14 مر کے وہ زندوں میں شامل ہو گیا
- 15 کیا جواب دوں
- 16 آخری ہتک
- 17 موت کی امداد
- 18 تماشائی نہ مل پائے
- 19 اچھی عادتوں کا بوجھ
- 20 بچ گیا
- 21 بھیڑ نہیں یہ آنکھیں ہیں
- 22 اب نہیں لوٹنا
- 23 جسم کی توہین
- 24 سانس لینے کا سکھ
- 25 جسم کے ساتھ آخری لمحہ
- 26 عمر محدود ہے
- 27 وہ سارے لفظ جھوٹے تھے
- 28 دوسرے ہاتھ کا دکھ
- 29 دشمنی کا لطف
- 30 جنت سے دور
- 31 بارات کا گھوڑا
- 32 کسی کے سمجھ دار ہونے تک
- 33 مجرم ہونے کی مجبوری
- 34 فقط حصے کی خاطر
- 35 دیر لگا دی
- 36 کسی تانگے میں پھر سامان رکھا جا رہا ہے
- 37 سرکس میں نوکری کا آخری دن
- 38 واقعی جھوٹ تھا کیا
- 39 وہ بکرا پھر اکیلا پڑ گیا ہے
- 40 زائد زندگی
- 41 شادی کا دن
- 42 سمجھ سے پرے
- 43 ماحول بنانے والے جملے
- 44 سلیقہ شرط ہے بس
- 45 خاک کو میں خوار کیوں کرتا
- 46 مشق
- 47 ولیمہ ختم ہونے کے بعد
- 48 کتیا
- 49 عبادت کے وقت میں حصہ
- 50 بات پھانسی کے دن کی نہیں
- 51 اپنے تماشے کا ٹکٹ
- 52 بہروپیا
- 53 چھٹی کا دن
- 54 جیت گیا جیت گیا
- 55 روتا ہوا بکرا
- 56 یقین کے خلاف
- 57 یہی رسی ملی تھی
- 58 ایک کینسر کے مریض کی بڑبڑ
- 59 بیچ بھنور سے لوٹ آؤں گا
- 60 اچانک بھیڑ کا خاموش ہو جانا
- 61 تو کیا مرنا بھی اب ممکن نہیں ہے
- 62 کتے کی موت
- 63 مجبوری
- 64 قبرستان کے نل پر
- 65 مرنے والے سے جلن
- 66 عجب مشکل ہے میری
- 67 جنازے میں تو آؤ گے نہ میرے
- 68 وہ سارے لفظ جھوٹے تھے
- 69 نظر بھر دیکھ لوں بس
- 70 محبت کی انتہا پر
- 71 مجھے ہنسنا پڑا آخر
- 72 نظم
- 73 گلہ یہ نہیں ہے کہ بے گھر کیا
- 74 کچھ ساغر چھلکانے تک محدود رہا
- 75 ہے اب وہ بھی دست خریدار میں
- 76 فسردہ کر گیا اگلے زمانوں سے گزرنا
- 77 نہیں پائی جھلک بھی دل ربا کی
- 78 ناجائز ہے جو بھی شکایت ہے میری
- 79 جانے سولی پہ ہم چڑھائے گئے
- 80 مدتوں بعد کہیں ایسی گھٹا چھائی تھی
- 81 کچھ تو احباب ذرا دل کے بڑے ہیں میرے
- 82 سمجھ لو خوب یہ فتویٰ ابھی جاری نہیں ہے
- 83 قصوروار نہ ٹھہرائیے خدا کے لئے
- 84 اچانک مل گئیں روحیں ہماری کل (ردیف .. ی)
- 85 خدا سے مشورے کے بعد کیا ہوا
- 86 کٹے گی کیسے ہماری وہاں پہ جائے بغیر
- 87 نہ کہو علاج کیا نہیں
- 88 ختم خود پر سفر کیا ہم نے
- 89 صبح کریں گے ہشیاری سے
- 90 موت کی روشنی میں سنوارا اسے
- 91 کام نمٹا کے ہم تو سو گئے ہیں
- 92 کہاں ہم میں جھگڑا ہوا تھا کوئی
- 93 اصل صورت چھپانے والے برے
- 94 سارا گھر ایک لے میں روتا ہے
- 95 یوں بھی آواز کو اونچا نہیں کر پائے ہم
- 96 چپ ہیں سب موت کے سوال کے بعد
- 97 شکوہ اک الزام ہو شاید
- 98 حریف مجھ سا اگر ہو تو کچھ خسارہ نہیں
- 99 خدا نے تو صبر آزمایا مرا
- 100 فریب آگہی میں جان دے دی
- 101 میہماں گھر میں بھرے رہے
- 102 بستی بری نہیں یہ ہمارے قیاس میں
- 103 مضحکہ خیز یہ کردار ہوا جاتا ہے
- 104 منظر پورا کرنے والا کوئی نہیں
- 105 جب نکلے رائے شماری کو
- 106 کبھی جو ہم ذرا بہت سنبھل گئے
- 107 خیال سا ہے کہ تو سامنے کھڑا تھا ابھی
- 108 حقوق جب یاد آئے اپنے
- 109 محور مجھے بنا سکتے ہو
- 110 موت ادھر جب بھی آتی ہے
- 111 کوئی خوش تھا تو کوئی رو رہا تھا
- 112 جو اگلا پاؤں دھرنے کے لیے تھی
- 113 کچھ بھی منزل سے نہیں لائے ہم
- 114 پھر کہیں ذکر کیا ہے اس کا
- 115 لگی جو دیر مجھے آپ کو منانے میں
- 116 بات یہ ذہن میں اس کے بھی تو آ سکتی ہے
- 117 عشق کو جتنا بھی سمجھا ہم نے
- 118 تھکن اوروں پہ حاوی ہے مری
- 119 قبر کی آغوش میں اتری نہیں
- 120 روز کا اک مشغلہ کچھ دیر کا
- 121 وہ دن بھی کیسا ستم مجھ پہ ڈھا کے جائے گا
- 122 تری طرف سے تو ہاں مان کر ہی چلنا ہے
- 123 تبھی تو بھیڑ بے شمار ہے یہاں
- 124 لوٹ آئے ہیں جانے والے
- 125 ایسا کرتے ہیں صبح ٹالتے ہیں
- 126 یہ کہہ کے اور مرا صبر آزمایا گیا
- 127 جانے کن بے وفاؤں کا چرچا کیا
- 128 نہیں ہمت تو ایسا کیجئے گا
- 129 صدر عالی مقام ہونے سے
- 130 فرق تو پڑنا تھا یاری میں
- 131 آج اکٹھا کر کے عشق کے ماروں کو
- 132 ہشیاری کا مول چکاتا رہتا ہوں
- 133 جشن تجھے ٹھکرا کر ہو گا
- 134 بات کرتے تھے اور پتھر تھے
- 135 وار پر وار کر رہا ہوں میں
- 136 کہتا ہے کار عشق میں مر جانا چاہئے
- 137 بیچ بچاؤ کرنے باہر جایا جائے
- 138 وہ نگاہیں جو ہزاروں کی سنا کرتی تھیں
- 139 لوگ جو آگے سے آگے بولتے ہیں
- 140 جب ساحل کا دھوکا ساحل ہو جاتا ہے
- 141 جب مجھے کام کا بتایا گیا
- 142 حقیقت کھل نہیں پائی ابھی تک
- 143 ملے تو کچھ بات بھی کرو گے
- 144 وہ بھی ماہر تھا بہت بات کو الجھانے میں
- 145 جب کبھی زخم شناسائی کے بھر جاتے ہیں
- 146 ذرا سی بات پر گھبرانے والے
- 147 گھروں میں چھپ کے نہ بیٹھو کہ رت سہانی ہے
- 148 ہوس میں مبتلا ہم کو ملا تھا
- 149 خدا کے اس قدر نزدیک جانا پڑ رہا ہے
- 150 تجھ سے وابستہ شاعری کے بغیر
- 151 جاؤں پھر اس کو منانے کے لئے
- 152 جسم بچہ ہے جانے بھر کا
- 153 پڑتا رہتا ہے اکثر یہ دورہ مجھ پر
- 154 اچانک ہو گئیں نکتے کی باتیں
- 155 اسے بھی کوئی مشغلہ چاہیے تھا
- 156 شکل بدلی اور اندر آ گیا
- 157 سامنے اپنے کھڑے ہو جائیں گے
- 158 یہاں دماغ کہاں میں چلانے آتا ہوں
- 159 اتنا تنہائی سے گھبرانے لگے ہیں
- 160 صرف گھٹن کم کر جاتے ہیں
- 161 در قفس تک جانے دینا
- 162 سب یار مرے خوب کمانے میں لگے تھے
- 163 بچھڑ کر ہم اسی کے حق میں اچھا کر رہے تھے
- 164 پتہ ہے آشنا دنیا ہے تم سے
- 165 میں پہنچا تو یار نہ پہنچا
- 166 اس دھوکے نے توڑ دیا ہے اتنا مجھ کو
- 167 کچھ یوں بھی مرا گھر سے نکلنا نہیں ہوتا
- 168 بات رکھنے کا موقع دیا جائے گا
- 169 اتنا اپنا ہو جاتا ہوں
- 170 کسی سے خفا میں ہوا ہی نہیں
- 171 چاند کل ایسا لگا تاروں کے بیچ
- 172 چھوٹ رہا ہے گھر جیسا کچھ
- 173 ذرا بھی بدلی نہیں جو بھی اس کی عادت تھی
- 174 ایک ایسا بھی وقت آتا ہے
- 175 اتنا ہم گھبرا گئے خود سے
- 176 یار کا کردار آئینہ نبھا سکتا نہیں
- 177 نام تمہارا بھول گئے ہم
- 178 پھر سے ہم پڑ گئے محبت میں
- 179 عشق پہلی مری برائی تھی
- 180 کسی طور دنیا ٹھکانے لگی
- 181 شاید مجھ سے جان چھڑایا کرتا تھا
- 182 ترے غم سے ابھرنا چاہتا ہوں
- 183 سفر ہی کافی ہے عمریں گزارنے کے لئے
- 184 آپ کو ایسے نہ کھونا تھا ہمیں
- 185 یہ پتھر تو اک دن پگھل جائے گا
- 186 برابر جسم کو دھمکا رہی ہے
- 187 اچھی اچھی باتیں دنیاداری والی
- 188 دل میں کچھ ہو تو مسکرائیے گا
- 189 مرنا بس اک بار کا دکھ ہے
- 190 یقیں خود پہ اتنا بڑی بات ہے
- 191 سفر حالانکہ تیرے ساتھ اچھا چل رہا ہے
- 192 مجھ میں ہے جو درویش وہ مر جائے تو اچھا
- 193 خود کو اتنا دنیا دار نہیں کر سکتے
- 194 رات بے پردہ سی لگتی ہے مجھے
- 195 ہاتھ آتا تو نہیں کچھ پہ تقاضہ کر آئیں
- 196 دفتر میں بے کار کی باتیں کرتے رہیے
- 197 خموشی میں گزارہ کر رہا ہوں
- 198 کوئی کچھ بھی کہتا رہے سب خاموشی سے سن لیتا ہے
- 199 طرح طرح سے مرا دل بڑھایا جاتا ہے
- 200 برسوں جنوں صحرا صحرا بھٹکاتا ہے
- 201 ہم ایسا نہیں گھر نہیں آئیں گے
- 202 سونا آنگن نیند میں ایسے چونک اٹھا ہے
- 203 سفر سے مجھ کو بد دل کر رہا تھا
- 204 کبھی خود کو چھوکر نہیں دیکھتا ہوں
- 205 ممکن ہی نہ تھی خود سے شناسائی یہاں تک
- 206 تن سے جب تک سانس کا رشتہ رہے گا
- 207 نگاہ نیچی ہوئی ہے میری
- 208 عجب شکست کا احساس دل پہ چھایا تھا
- 209 اداس ہیں سب پتا نہیں گھر میں کیا ہوا ہے
- 210 رونا دھونا صرف دکھاوا ہوتا ہے
- 211 گزر رہا ہے وہ لمحہ تو یاد آیا ہے
- 212 سامنے تیرے ہوں گھبرایا ہوا
- 213 کچھ قدم اور مجھے جسم کو ڈھونا ہے یہاں
- 214 کس نے سوچا تھا کہ اس حد تک بھی جا سکتا ہوں میں
- 215 کہاں سوچا تھا میں نے بزم آرائی سے پہلے
- 216 بڑا ہے دکھ سو حاصل ہے یہ آسانی مجھے
- 217 دلوں پر نقش ہونا چاہتا ہوں
- 218 بھیڑ میں جب تک رہتے ہیں جوشیلے ہیں
- 219 دنیا شاید بھول رہی ہے
- 220 بے تکلف مرا ہیجان بناتا ہے مجھے
- 221 سب آسان ہوا جاتا ہے
- 222 یہ سچ ہے دنیا بہت حسیں ہے
- 223 نہیں میں حوصلہ تو کر رہا تھا
- 224 پہلی بار وہ خط لکھا تھا
- 225 ہونے سے مرے فرق ہی پڑتا تھا بھلا کیا
- 226 کم سے کم دنیا سے اتنا مرا رشتہ ہو جائے
- 227 یوں بھی صحرا سے ہم کو رغبت ہے
- 228 ہیں اب اس فکر میں ڈوبے ہوئے ہم
- 229 سچ تو بیٹھ کے کھاتا ہے
- 230 کون کہے معصوم ہمارا بچپن تھا
- 231 لوگ سہہ لیتے تھے ہنس کر کبھی بے زاری بھی
- 232 خواب ویسے تو اک عنایت ہے
- 233 ہمیں پتہ ہے کہ پرچہ برا نہیں آیا
- 234 خموشی بس خموشی تھی اجازت اب ہوئی ہے
- 235 ایک مدت ہوئی گھر سے نکلے ہوئے
- 236 جو کہتا ہے کہ دریا دیکھ آیا
- 237 سیانے تھے مگر اتنے نہیں ہم
- 238 وہ دن بھی تھے کہ ان آنکھوں میں اتنی حیرت تھی
- 239 رونا ہو آسان ہمارا
- 240 انتہا تک بات لے جاتا ہوں میں
- 241 یہ کچھ بدلاؤ سا اچھا لگا ہے
- 242 یہ چپکے چپکے نہ تھمنے والی ہنسی تو دیکھو
- 243 اچھا تو تم ایسے تھے
- 244 کہیں نہ تھا وہ دریا جس کا ساحل تھا میں
- 245 جھوٹ پر اس کے بھروسا کر لیا
- 246 ہمیں تک رہ گیا قصہ ہمارا
- 247 آئنے کا ساتھ پیارا تھا کبھی
- 248 اک دن خود کو اپنے پاس بٹھایا ہم نے