شارق کیفی

شارق کیفی

شاعر — Shariq Kaifi

تعارف شاعری

چھوٹ رہا ہے گھر جیسا کچھ

چھوٹ رہا ہے گھر جیسا کچھ پیٹھ پہ ہے بستر جیسا کچھ نقطوں کو ہر ڈھنگ سے برتا نہیں بنا منظر جیسا کچھ کل کا سویرا ایک پہیلی نیند سے پہلے ڈر جیسا کچھ دو روحیں دو جسم ملا کر بن جاتا ہے گھر جیسا کچھ گل ہی اچھالا ہو گا تم نے مجھے لگا پتھر جیسا کچھ اس لمحے کا وجود ہمارا ڈولتے پھرتے پر جیسا کچھ

— شارق کیفی

English rendering

chhūT rahā hai ghar jaisā kuchh piiTh pe hai bistar jaisā kuchh nuqtoñ ko har Dhang se bartā nahīñ banā manzar jaisā kuchh kal kā saverā ek pahelī niiñd se pahle Dar jaisā kuchh do rūheñ do jism milā kar ban jaatā hai ghar jaisā kuchh gul hī uchhālā hogā tum ne mujhe lagā patthar jaisā kuchh is lamhe kā vujūd hamārā Dolte phirte par jaisā kuchh

‹ کلام کی فہرست پر واپس