شارق کیفی

شارق کیفی

شاعر — Shariq Kaifi

تعارف شاعری

یہ کہہ کے اور مرا صبر آزمایا گیا

یہ کہہ کے اور مرا صبر آزمایا گیا وہ راہ پر تھا مجھے راستے پہ لایا گیا پتہ تھا کوئی کسی کو نہیں منائے گا سو اختلاف زیادہ نہیں بڑھایا گیا اب اس خیال نے نیندیں حرام کر دی ہیں وہ کوئی تھا بھی جسے عمر بھر بھلایا گیا کچھ ایسی کیفیت وجد تھی کہ پھر ہم سے تماشبیں کے لئے کچھ نہیں بچایا گیا خیال آیا کہ بے چہرگی ہی اچھی تھی کبھی یہ چہرہ اگر کام میں بھی لایا گیا تو جانیے کہ یہ صحرا یہ دشت سب بے کار اگر جنوں کو تماشہ نہیں بنایا گیا

— شارق کیفی

English rendering

sadr-e-ālī-maqām hone se rah ga.e apne kaam hone se ek pahchān thī so vo bhī ga.ī bevafā.ī ke 'aam hone se aa ga.ī chaal meñ akaḌ merī jeb meñ puure daam hone se nukta-chīnoñ ke lab sile hī rahe aap kā intizām hone se vaqt se pahle ho ga.e būḌhe is qadar ehtirām hone se apnī ḳhidmat lagī mujhe behtar dūsroñ kā ġhulām hone se ro to letā thā pahle qismat ko kaam bigḌā hai kaam hone se

‹ کلام کی فہرست پر واپس