تنویر دانش

تنویر دانش

شاعر — Tanvir Danish

تعارف شاعری

سارے الزام اپنے سر لے گا

سارے الزام اپنے سر لے گا عشق تو عشق ہے نا کر لے گا چن تو لے گا وہ میرے اشکوں کو پر کہانی کشید کر لے گا آٸینے سے جو جھانکتا ہے مجھے مجھ سے کہتا ہے کب خبر لے گا دل کو زنجیر چاہے دوہری رکھ پر تو سیدھے وہ اپنے کر لے گا

— تنویر دانش

English rendering

Saare ilzaam apne sar le ga Ishq to ishq hai na kar le ga Chun to le ga woh mere ashkon ko Par kahani kashid kar le ga Aaine se jo jhankta hai mujhe Mujh se kehta hai kab khabar le ga Dil ko zanjeer chahe dohri rakh Par tu seedhe woh apne kar le ga

‹ کلام کی فہرست پر واپس