کلامِ شاعر
- 01 تری گلی کے جنہیں بام و در دکھائے گئے
- 02 اے گلِ زرد تجھے زرد نہیں ہونا تھا
- 03 اس نے کچھ دیر محبت کی اداکاری کی
- 04 بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہے
- 05 کتابِ زیست میں چاہت کے باب تھے ہی نہیں
- 06 جو آنکھ دیکھتاهوں مجھےنم دکھائی دے
- 07 محبت جب ضروری تھی
- 08 سر پہ رکھوں تو کبھی سُرما بناوں مٹی
- 09 بات کر کے وہ کچھ تو دھارے سے
- 10 میں حرف حرف کہانی تلاش کرتے ہوۓ
- 11 کچھ زمانے کو بھی ستاتے ہیں
- 12 نالاں بھی ہے جو لب پہ لیے التماس ہے
- 13 شہر کے دوسرے کنارے سے
- 14 حقیتوں سے الگ کر چکا گمان کو میں
- 15 مرے صحن میں پڑا وحشتوں کا پالنا ہے
- 16 ترا نہ ذکر کرے بار بار لوگوں میں
- 17 سارے الزام اپنے سر لے گا
- 18 جھلیے میرے بال کے سجناں سیکے نیں
- 19 کھینچ کر روشنی میں لایا گیا
- 20 دھوپ کی تمازت میں
- 21 دستِ بیزار سے یونہی نہ اچھالے جاتے
- 22 میں اپنے قد سے جو ہاتھ اونچا اٹھا رہا ہوں
- 23 دام پر دام ہے اداسی کا
- 24 میں چاہتا ہوں کوٸی دشت میں جلاے چراغ
- 25 دیکھتے ہو جو مسکراتے ہیں
- 26 سانحہ ہے بڑا چراغ کے ساتھ
- 27 یہ جو ہم دل کو دل نہیں کہتے
- 28 تف ہے ایسی ستم ظریفی پر
- 29 زلفِ برہم میں خم زیادہ ہے
- 30 ہماری خود سے ملاقات ہونا باقی ہے
- 31 اک مشقت ہے مسکرانے میں
- 32 جب بات ہو رہی تھی تری چشمِ ناز کی
- 33 یہ جو دو گھونٹ کی اداسی ہے
- 34 بے گھروں کا بھی کچھ ٹھکانا ہے
- 35 ایک خوشبو کے تعاقب میں وہ جانا میرا
- 36 غزہ اِس عہد کا کرب و بلا ہے
- 37 جاگتی آنکھ سے اک صورتِ دیگر لانا
- 38 پھردا رہنا وانگ شدائیاں
- 39 اگر تو چاہے ابھی خودکو سرخرو کر لے
- 40 لا الہ ہے بِنا محبت کی
- 41 ایسے نقوش دیکھ ہمارے نہیں بنا