مضطر خیرآبادی

جو بگڑ گیاوہ نصیب ہوں جو اجڑگیا وہ دیارہوں مضطر خیرآبادی

01 May 2026

14سپیکرز
190لسنرز

سپیکرز

پرشانت کا پیش کردہ کلام

اگر تم دل ہمارا لے کے پچھتائے تو رہنے دو

اگر تم دل ہمارا لے کے پچھتائے تو رہنے دو نہ کام آئے تو واپس دو جو کام آئے تو رہنے دو مرا رہنا تمہارے در پہ لوگوں کو کھٹکتا ہے اگر کہہ دو تو اٹھ جاؤں جو رحم آئے تو رہنے دو کہیں ایسا نہ کرنا وصل کا وعدہ تو کرتے ہو کہ تم کو پھر کوئی کچھ اور سمجھائے تو رہنے دو دل اپنا بیچتا ہوں واجبی دام اس کے دو بوسے جو قیمت دو تو لو قیمت نہ دی جائے تو رہنے دو دل مضطرؔ کی بیتابی سے دم الجھے تو واپس دو اگر مرضی بھی ہو اور دل نہ گھبرائے تو رہنے دو

— مضطر خیرآبادی