مضطر خیرآبادی

جو بگڑ گیاوہ نصیب ہوں جو اجڑگیا وہ دیارہوں مضطر خیرآبادی

01 May 2026

14سپیکرز
190لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لو

محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لو مرے دل پہ گزرتی کیا ہے اس کا بھی مزا لے لو جو کہتا ہوں جفائیں چھوڑ دو عہد وفا لے لو تو کہتے ہیں خدا سے تم مقدر دوسرا لے لو جو پوچھا چھوڑ دوں الفت تو بولے اس سے کیا ہوگا جو پوچھا اپنا دل لے لوں تو جھنجھلا کر کہا لے لو جناب خضر راہ عشق میں لڑنے سے کیا حاصل میں اپنا راستہ لے لوں تم اپنا راستہ لے لو شب فرقت جو درد دل سے مضطرؔ دم الجھتا ہے قضا کہتی ہے گھبراؤ نہیں مجھ سے دوا لے لو

— مضطر خیرآبادی