مضطر خیرآبادی

جو بگڑ گیاوہ نصیب ہوں جو اجڑگیا وہ دیارہوں مضطر خیرآبادی

01 May 2026

14سپیکرز
190لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا

علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا تم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا عدو کو چھوڑ دو پھر جان بھی مانگو تو حاضر ہے تم ایسا کر نہیں سکتے تو ایسا ہو نہیں سکتا ابھی مرتے ہیں ہم جینے کا طعنہ پھر نہ دینا تم یہ طعنہ ان کو دینا جن سے ایسا ہو نہیں سکتا تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا دم آخر مری بالیں پہ مجمع ہے حسینوں کا فرشتہ موت کا پھر آئے پردا ہو نہیں سکتا نہ برتو ان سے اپنائیت کے تم برتاؤ اے مضطرؔ پرایا مال ان باتوں سے اپنا ہو نہیں سکتا

— مضطر خیرآبادی