مضطر خیرآبادی

جو بگڑ گیاوہ نصیب ہوں جو اجڑگیا وہ دیارہوں مضطر خیرآبادی

01 May 2026

14سپیکرز
190لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

میرے محبوب تم ہو یار تم ہو دل ربا تم ہو

میرے محبوب تم ہو یار تم ہو دل ربا تم ہو یہ سب کچھ ہو مگر میں کہہ نہیں سکتا کہ کیا تم ہو تمہارے نام سے سب لوگ مجھ کو جان جاتے ہیں میں وہ کھوئی ہوئی اک چیز ہوں جس کا پتا تم ہو محبت کو ہماری اک زمانہ ہو گیا لیکن نہ تم سمجھے کہ کیا میں ہوں نہ میں سمجھا کہ کیا تم ہو ہمارے دل کو بحر غم کی کیا طاقت جو لے بیٹھے وہ کشتی ڈوب کب سکتی ہے جس کے نا خدا تم ہو بچھڑنا بھی تمہارا جیتے جی کی موت ہے گویا اسے کیا خاک لطف زندگی جس سے جدا تم ہو مصیبت کا تعلق ہم سے کچھ بھی ہو تو راحت ہے مرے دل کو خدا وہ درد دے جس کی دوا تم ہو کہیں اس پھوٹے منہ سے بے وفا کا لفظ نکلا تھا بس اب طعنوں پہ طعنے ہیں کہ بے شک با وفا تم ہو قیامت آئے گی یا آ گئی اس کی شکایت کیا قیامت کیوں نہ ہو جب فتنۂ روز جزا تم ہو الجھ پڑنے میں کاکل ہو بگڑنے میں مقدر ہو پلٹنے میں زمانہ ہو بدلنے میں ہوا تم ہو وہ کہتے ہیں یہ ساری بے وفائی ہے محبت کی نہ مضطرؔ بے وفا میں ہوں نہ مضطرؔ بے وفا تم ہو

— مضطر خیرآبادی