مضطر خیرآبادی

جو بگڑ گیاوہ نصیب ہوں جو اجڑگیا وہ دیارہوں مضطر خیرآبادی

01 May 2026

14سپیکرز
190لسنرز

سپیکرز

واصف سیفی کا پیش کردہ کلام

نہ بلوایا نہ آئے روز وعدہ کر کے دن کاٹے

نہ بلوایا نہ آئے روز وعدہ کر کے دن کاٹے بڑے وہ ہو کہ تم نے اچھا اچھا کر کے دن کاٹے اکیلے کیا تمہیں نے سختیاں جھیلیں جدائی کی نہیں ہم نے بھی پتھر کا کلیجا کر کے دن کاٹے بتا مجھ کو طریقہ اے شب غم سال کٹنے کا کوئی بارہ مہینے تیس دن کیا کر کے دن کاٹے جسے اپنا سمجھتے تھے وہی دل ہو گیا ان کا کوئی دنیا میں اب کس کا بھروسا کر کے دن کاٹے قضا بھی آ گئی لیکن نہ آنا تھا نہ آئے وہ یہ میں نے عمر بھر کس کی تمنا کر کے دن کاٹے تمہارا کیا کھلے بندوں رہے چاہے جسے دیکھا کمال اس نے کیا مضطرؔ کہ پردا کر کے دن کاٹے

— مضطر خیرآبادی