سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
عمر گریزاں کے نام
عمر یوں مجھ سے گریزاں ہے کہ ہر گام پہ میں اس کے دامن سے لپٹتا ہوں مناتا ہوں اسے واسطہ دیتا ہوں محرومی و ناکامی کا داستاں آبلہ پائی کی سناتا ہوں اسے خواب ادھورے ہیں جو دہراتا ہوں ان خوابوں کو زخم پنہاں ہیں جو وہ زخم دکھاتا ہوں اسے اس سے کہتا ہوں تمنا کے لب و لہجے میں اے مری جان مری لیلئی تابندہ جبیں سنتا ہوں تو ہے مری لیلیٔ تابندہ جبیں سنتا ہوں تو ہے مہ و مہر سے بھی بڑھ کے حسیں یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں کہ ابھی تک میں نے جاننا تجھ کو کجا پاس سے دیکھا بھی نہیں صبح اٹھ جاتا ہوں جب مرغ اذاں دیتے ہیں اور روٹی کے تعاقب میں نکل جاتا ہوں شام کو ڈھور پلٹتے ہیں چرا گاہوں سے جب شب گزاری کے لیے میں بھی پلٹ آتا ہوں یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں مرا سرمایہ ابھی خواب ہی خواب ہیں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ملتوی کرتا رہا کل پہ تری دید کو میں
زندگی کا وقفہ
رات سناٹے کی چادر میں پڑی ہے لپٹی پتیاں سڑکوں کی سب جاگ رہی ہیں جیسے دیکھنا چاہتی ہیں شہر میں کیا ہوتا ہے میں ہمیشہ کی طرح ہونٹوں میں سگریٹ کو دبائے سونے سے پہلے خیالات میں کھویا ہوا ہوں دن میں کیا کچھ کیا اک جائزہ لیتا ہے ضمیر ایک سادہ سا ورق نامۂ اعمال ہے سب کچھ نہیں لکھا بجز اس کے پسے جاؤ یوں ہی کچھ نہیں لکھا بس اک اتنا کہ انساں کا نصیب گیلی گوندھی ہوئی مٹی کا ہے اک تودہ سا دن میں سو شکلیں بنا کرتی ہیں اس مٹی سے کچھ نہیں لکھا بس اک اتنا کہ چیونٹی دل ہے جوق در جوق جو انسان نظر آتے ہیں دانہ لے کر کسی دیوار پہ چڑھنا گرنا اور پھر چڑھنا چڑھے جانا یوں ہی شام و سحر کچھ نہیں لکھا بس اتنا کہ پسے جاؤ یوں ہی اور اندوہ تأسف خوشی آلام نشاط خود کو سو ناموں سے بہلاتے رہو چلتے رہو سانس رک جائے جہاں سمجھو وہیں منزل ہے اور اس دوڑ سے تھک جاؤ تو سگریٹ پی لو