سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
افراسیاب
امل خان
ایم سعید
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
حمایت اللہ
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سید جینٹلمین
شہزاد
شیخ اویس
فائیٹر
کریسنٹ
ملک
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
کریسنٹ کا پیش کردہ کلام
سلسلے ٹوٹ گئے ۔۔۔
اٹھ گیا رات کے چہرے سے ستاروں کا کفن سبزہ وگل پہ ابھی تک ہے وہی پہلا نکھار صبح کی آنکھ میں انگڑائیاں لیتا ہے خمار دن کے ہمراہ چلا قافلۂ رنگ وبہار! سینۂ خاک پہ رقصاں ہے وہی روحِ حیات وہی کلیوں کی خموشی ، وہی غنچوں کا ثبات نور خورشید سے زروں کی جبیں روشن ہے ! دشت و کہسار میں ہے پھر وہی کرنوں کا خرام پھر وہی شور ، وہی کشمکشِ دانہ ودام پھر اسی مرکزِ آلام پہ لوٹ آیا ہوں پھر وہی حسن سے حیوان کی چارہ جوئی پھر وہ انسان سے انسان کی چارہ جوئی سلسلے ٹوٹ گئے خواب کی زنجیروں کے میری پلکوں پہ ستارے سے لرز کر ٹوٹے اس کے ہونٹوں پہ سہارے سے لرز کر ٹوٹے