اخترالایمان

کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان

27 January 2026

17سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

آمادگی

ایک اک اینٹ گری پڑی ہے سب دیواریں کانپ رہی ہیں ان تھک کوششیں معماروں کی سر کو تھامے ہانپ رہی ہیں موٹے موٹے شہتیروں کا ریشہ ریشہ چھوٹ گیا ہے بھاری بھاری جامد پتھر ایک اک کر کے ٹوٹ گیا ہے لوہے کی زنجیریں گل کر اب ہمت ہی چھوڑ چکی ہیں حلقہ حلقہ چھوٹ گیا ہے بندش بندش توڑ چکی ہیں چونے کی اک پتلی سی تہ گرتے گرتے بیٹھ گئی ہے نبضیں چھوٹ گئیں مٹی کی مٹی سے سر جوڑ رہی ہے سب کچھ ڈھیر ہے اب مٹی کا تصویریں وہ دل کش نقشے پہچانو تو رو دو گی تم گھر میں ہوں باہر ہوں گھر سے اب آؤ تو رکھا کیا ہے چشمے سارے سوکھ گئے ہیں یوں چاہو تو آ سکتی ہو میں نے آنسو پونچھ لیے ہیں

— اختر الایمان

عہد وفا

یہی شاخ تم جس کے نیچے کسی کے لیے چشم نم ہو یہاں اب سے کچھ سال پہلے مجھے ایک چھوٹی سی بچی ملی تھی جسے میں نے آغوش میں لے کے پوچھا تھا بیٹی یہاں کیوں کھڑی رو رہی ہو مجھے اپنے بوسیدہ آنچل میں پھولوں کے گہنے دکھا کر وہ کہنے لگی میرا ساتھی ادھر اس نے انگلی اٹھا کر بتایا ادھر اس طرف ہی جدھر اونچے محلوں کے گنبد ملوں کی سیہ چمنیاں آسماں کی طرف سر اٹھائے کھڑی ہیں یہ کہہ کر گیا ہے کہ میں سونے چاندی کے گہنے ترے واسطے لینے جاتا ہوں رامیؔ

— اختر الایمان

آگہی

میں جب طفل مکتب تھا، ہر بات، ہر فلسفہ جانتا تھا کھڑے ہو کے منبر پہ پہروں سلاطین پارین و حاضر حکایات شیرین و تلخ ان کی، ان کے درخشاں جرائم جو صفحات تاریخ پر کارنامے ہیں، ان کے اوامر نواہی، حکیموں کے اقوال، دانا خطیبوں کے خطبے جنہیں مستمندوں نے باقی رکھا اس کا مخفی و ظاہر فنون لطیفہ خداوند کے حکم نامے، فرامین جنہیں مسخ کرتے رہے پیر زادے، جہاں کے عناصر ہر اک سخت موضوع پر اس طرح بولتا تھا کہ مجھ کو سمندر سمجھتے تھے سب علم و فن کا، ہر اک میری خاطر تگ و دو میں رہتا تھا، لیکن یکایک ہوا کیا یہ مجھ کو یہ محسوس ہوتا ہے سوتے سے اٹھا ہوں، ہلنے سے قاصر کسی بحر کے سونے ساحل پہ بیٹھا ہوں گردن جھکائے سر شام آئی ہے دیکھو تو ہے آگہی کتنی شاطر!

— اختر الایمان

بے تعلقی

شام ہوتی ہے سحر ہوتی ہے یہ وقت رواں جو کبھی سنگ گراں بن کے مرے سر پہ گرا راہ میں آیا کبھی میری ہمالہ بن کر جو کبھی عقدہ بنا ایسا کہ حل ہی نہ ہوا اشک بن کر مری آنکھوں سے کبھی ٹپکا ہے جو کبھی خون جگر بن کے مژہ پر آیا آج بے واسطہ یوں گزرا چلا جاتا ہے جیسے میں کشمکش زیست میں شامل ہی نہیں!

— اختر الایمان

رنگ باد صبا میں بھرتا ہے

رنگ باد صبا میں بھرتا ہے میرا اک زخم شام کرتا ہے سب یہی مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تو کیوں سدھارے نہیں سدھرتا ہے شاہراہوں سے روز شام و سحر ایک انبوہ کیوں گزرتا ہے آئینے! تیرے سامنے وہ شخص اب بھلا کیوں نہیں سنورتا ہے ایلیا جون کچھ نہیں کرتا صرف خوشبو میں رنگ بھرتا ہے

— جون ایلیا