سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
آمادگی
ایک اک اینٹ گری پڑی ہے سب دیواریں کانپ رہی ہیں ان تھک کوششیں معماروں کی سر کو تھامے ہانپ رہی ہیں موٹے موٹے شہتیروں کا ریشہ ریشہ چھوٹ گیا ہے بھاری بھاری جامد پتھر ایک اک کر کے ٹوٹ گیا ہے لوہے کی زنجیریں گل کر اب ہمت ہی چھوڑ چکی ہیں حلقہ حلقہ چھوٹ گیا ہے بندش بندش توڑ چکی ہیں چونے کی اک پتلی سی تہ گرتے گرتے بیٹھ گئی ہے نبضیں چھوٹ گئیں مٹی کی مٹی سے سر جوڑ رہی ہے سب کچھ ڈھیر ہے اب مٹی کا تصویریں وہ دل کش نقشے پہچانو تو رو دو گی تم گھر میں ہوں باہر ہوں گھر سے اب آؤ تو رکھا کیا ہے چشمے سارے سوکھ گئے ہیں یوں چاہو تو آ سکتی ہو میں نے آنسو پونچھ لیے ہیں
عہد وفا
یہی شاخ تم جس کے نیچے کسی کے لیے چشم نم ہو یہاں اب سے کچھ سال پہلے مجھے ایک چھوٹی سی بچی ملی تھی جسے میں نے آغوش میں لے کے پوچھا تھا بیٹی یہاں کیوں کھڑی رو رہی ہو مجھے اپنے بوسیدہ آنچل میں پھولوں کے گہنے دکھا کر وہ کہنے لگی میرا ساتھی ادھر اس نے انگلی اٹھا کر بتایا ادھر اس طرف ہی جدھر اونچے محلوں کے گنبد ملوں کی سیہ چمنیاں آسماں کی طرف سر اٹھائے کھڑی ہیں یہ کہہ کر گیا ہے کہ میں سونے چاندی کے گہنے ترے واسطے لینے جاتا ہوں رامیؔ
آگہی
میں جب طفل مکتب تھا، ہر بات، ہر فلسفہ جانتا تھا کھڑے ہو کے منبر پہ پہروں سلاطین پارین و حاضر حکایات شیرین و تلخ ان کی، ان کے درخشاں جرائم جو صفحات تاریخ پر کارنامے ہیں، ان کے اوامر نواہی، حکیموں کے اقوال، دانا خطیبوں کے خطبے جنہیں مستمندوں نے باقی رکھا اس کا مخفی و ظاہر فنون لطیفہ خداوند کے حکم نامے، فرامین جنہیں مسخ کرتے رہے پیر زادے، جہاں کے عناصر ہر اک سخت موضوع پر اس طرح بولتا تھا کہ مجھ کو سمندر سمجھتے تھے سب علم و فن کا، ہر اک میری خاطر تگ و دو میں رہتا تھا، لیکن یکایک ہوا کیا یہ مجھ کو یہ محسوس ہوتا ہے سوتے سے اٹھا ہوں، ہلنے سے قاصر کسی بحر کے سونے ساحل پہ بیٹھا ہوں گردن جھکائے سر شام آئی ہے دیکھو تو ہے آگہی کتنی شاطر!
بے تعلقی
شام ہوتی ہے سحر ہوتی ہے یہ وقت رواں جو کبھی سنگ گراں بن کے مرے سر پہ گرا راہ میں آیا کبھی میری ہمالہ بن کر جو کبھی عقدہ بنا ایسا کہ حل ہی نہ ہوا اشک بن کر مری آنکھوں سے کبھی ٹپکا ہے جو کبھی خون جگر بن کے مژہ پر آیا آج بے واسطہ یوں گزرا چلا جاتا ہے جیسے میں کشمکش زیست میں شامل ہی نہیں!
رنگ باد صبا میں بھرتا ہے
رنگ باد صبا میں بھرتا ہے میرا اک زخم شام کرتا ہے سب یہی مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تو کیوں سدھارے نہیں سدھرتا ہے شاہراہوں سے روز شام و سحر ایک انبوہ کیوں گزرتا ہے آئینے! تیرے سامنے وہ شخص اب بھلا کیوں نہیں سنورتا ہے ایلیا جون کچھ نہیں کرتا صرف خوشبو میں رنگ بھرتا ہے