سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
افراسیاب
امل خان
ایم سعید
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
حمایت اللہ
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سید جینٹلمین
شہزاد
شیخ اویس
فائیٹر
کریسنٹ
ملک
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
بے چارگی
ہزار بار ہوا یوں کہ جب امید گئی گلوں سے رابطہ ٹوٹا نہ خار اپنے رہے گماں گزرنے لگا ہم کھڑے ہیں صحرا میں فریب کھانے کی جا رہ گئی، نہ سپنے رہے نظر اٹھا کے کبھی دیکھ لیتے تھے اوپر نہ جانے کون سے اعمال کی سزا ہے کہ آج یہ واہمہ بھی گیا سر پہ آسماں ہے کوئی
کوئی جو رہتا ہے رہنے دو مصلحت کا شکار
کوئی جو رہتا ہے رہنے دو مصلحت کا شکار چلو کہ جشن بہاراں منائیں گے سب یار چلو نکھاریں گے اپنے لہو سے عارض گل یہی ہے رسم وفا اور منچلوں کا شعار جو زندگی میں ہے وہ زہر ہم بھی پی ڈالیں چلو ہٹائیں گے پلکوں سے راستوں کے خار یہاں تو سب ہی ستم دیدہ غم گزیدہ ہیں کرے گا کون بھلا زخم ہائے دل کا شمار چلو کہ آج رکھی جائے گی نہاد چمن چلو کہ آج بہت دوست آئیں گے سر دار