اخترالایمان

کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان

27 January 2026

17سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

بے چارگی

ہزار بار ہوا یوں کہ جب امید گئی گلوں سے رابطہ ٹوٹا نہ خار اپنے رہے گماں گزرنے لگا ہم کھڑے ہیں صحرا میں فریب کھانے کی جا رہ گئی، نہ سپنے رہے نظر اٹھا کے کبھی دیکھ لیتے تھے اوپر نہ جانے کون سے اعمال کی سزا ہے کہ آج یہ واہمہ بھی گیا سر پہ آسماں ہے کوئی

— اختر الایمان

کوئی جو رہتا ہے رہنے دو مصلحت کا شکار

کوئی جو رہتا ہے رہنے دو مصلحت کا شکار چلو کہ جشن بہاراں منائیں گے سب یار چلو نکھاریں گے اپنے لہو سے عارض گل یہی ہے رسم وفا اور منچلوں کا شعار جو زندگی میں ہے وہ زہر ہم بھی پی ڈالیں چلو ہٹائیں گے پلکوں سے راستوں کے خار یہاں تو سب ہی ستم دیدہ غم گزیدہ ہیں کرے گا کون بھلا زخم ہائے دل کا شمار چلو کہ آج رکھی جائے گی نہاد چمن چلو کہ آج بہت دوست آئیں گے سر دار

— اخترالایمان