سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
لوگو اے لوگو
مری انتہائے محبت مسرت سوا اس کے کیا اور ہوگی بجائے کوئی مسند عالیہ تخت طاؤس و زر مانگنے کے بجائے کوئی سر برآوردہ پتھر صفت شخصیت چاہنے کے تمہاری معیت رفاقت تگ و دو کا انداز مانگوں یہ جم غفیر ایک سیل رواں زندگی کا جولا سے نکل کر اسی لا میں پھر ڈوب جاتا ہے یہ ریت ہے یوں ہی جاری سمندر جو پھیلا ہے ہر چار جانب افق سے افق تک سمندر جو ہے آئینہ دار ہستی جہاد مسلسل کشاکش سمندر جو سفاک ہے اور طوفاں سے لبریز ہے پرجنوں ہے سمندر جو بے باک ہے جنم داتا ہے اور موت کا نغمۂ سرمدی ہے یہ سیل رواں یوں ہی بہتا رہا ہے اسی سیل میں ڈوب جاؤں میں جو ایک قطرہ ہوں گہرائی گیرائی کا حجم کا اس کے بن جاؤں حصہ مجھے کوئی مکتی نہیں چاہیے کوئی نروان کی آرزو کوئی خواہش نہیں اب کوئی سلسبیل اور کوثر نجات و جزا پر سکوں کوئی لمحہ نہیں صرف امواج کی شورش رائیگاں چاہیے یہ اگر رائیگاں ہے
جمود
تم سے بے رنگیٔ ہستی کا گلہ کرنا تھا دل پہ انبار ہے خوں گشتہ تمناؤں کا آج ٹوٹے ہوئے تاروں کا خیال آیا ہے ایک میلہ ہے پریشان سی امیدوں کا چند پژمردہ بہاروں کا خیال آیا ہے پاؤں تھک تھک کے رہے جاتے ہیں مایوسی میں پر محسن راہ گزاروں کا خیال آیا ہے ساقی و بادہ نہیں جام و لب جو بھی نہیں تم سے کہنا تھا کہ اب آنکھ میں آنسو بھی نہیں