کلامِ شاعر
- 01 کوئی حد نہیں ہے کمال کی
- 02 آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی
- 03 میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
- 04 اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا
- 05 اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو
- 06 غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
- 07 محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئے
- 08 اپنے آپ نال گلاں
- 09 ابھی مجھے اک دشت صدا کی ویرانی سے گزرنا ہے
- 10 خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
- 11 خیال یکتا میں خواب اتنے
- 12 زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
- 13 ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں
- 14 اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو
- 15 ان سے نین ملا کے دیکھو
- 16 اپنا تو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہنا
- 17 نئی محفل میں پہلی شناسائی
- 18 وہ جو میرے پاس سے ہو کر کسی کے گھر گیا
- 19 ہونی دے حیلے