رند لکھنوی

لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی

26 April 2026

16سپیکرز
198لسنرز

سپیکرز

پرشانت کا پیش کردہ کلام

دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا

دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا کیا ظلم سہوں کوئی ستم گر نہیں ملتا خط لے کے گیا جو وہ کبوتر نہیں ملتا کیا ذکر کبوتر کا ہے اک پر نہیں ملتا زلفوں کی طرح عمر بسر ہو گئی اپنی ہم خانہ بدوشوں کو کہیں گھر نہیں ملتا کیا خاک مداوا کریں شوریدہ سری کا سر پھوڑنے کو ڈھونڈھیں تو پتھر نہیں ملتا گنجلک نہیں مٹتی جو طبیعت میں پڑی ہے دل تجھ سے کسی طور سے دلبر نہیں ملتا کیا کیجئے تعریف بنا گوش کی اس کے آویزے کو جس کان کے گوہر نہیں ملتا گم جب سے ہوا ہوں میں تری راہ طلب میں جب ڈھونڈھتا ہوں آپ کو اکثر نہیں ملتا کچھ طالب زر بت ہی نہیں غور سے دیکھو حق یوں ہے کہ اللہ بھی بے زر نہیں ملتا صورت نہیں ملتی تری صورت سے کسی کی گہنے سے کسی کے ترا زیور نہیں ملتا آرائشیں موقوف ہوئیں کس لئے اے جان گوہر نہیں ملتا ہے کہ زر گر نہیں ملتا ابرو کی محبت میں کسے زیست ہے منظور مر جاؤں گلا کاٹ کے خنجر نہیں ملتا رندان مے آشام نہیں جام کے پابند ہم اوک سے پیتے ہیں جو ساغر نہیں ملتا وحشت میں نکل جاؤں میں سرحد سے زمیں کی اس گنبد گرداں کا ولے در نہیں ملتا او برق تجلی ترے کشتے کی لحد پر کیا لوح بنے طور کا پتھر نہیں ملتا حاضر ہوں مجھے بستۂ فتراک فرس کر گر صید کوئی ترک ستم گر نہیں ملتا عاشق سے نہ کھینچ آپ کو اے بادشہ حسن درویش سے کیا جھک کے تونگر نہیں ملتا جو زخم کو سینے کے سیے ٹانکے جگر کو ایسا کوئی استاد رفوگر نہیں ملتا اے رندؔ لبالب ہو جو عرفان کی مے سے ساغر وہ بجز ساقیٔ کوثر نہیں ملتا

— رند لکھنوی