رند لکھنوی

لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی

26 April 2026

16سپیکرز
198لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

مجھے دے کے دل جان کھونا پڑا ہے

مجھے دے کے دل جان کھونا پڑا ہے غرض ہاتھ دونوں سے دھونا پڑا ہے جو رونا یہی ہے تو پھوٹیں گی آنکھیں مجھے اب تو آنکھوں کا رونا پڑا ہے کیے سیکڑوں گھر محبت نے غارت سنو جس محلے میں رونا پڑا ہے میں پاتا نہیں دل کو سینے میں اپنے کئی دن سے خالی یہ کونا پڑا ہے کرو چل کے آباد اب گور اے رندؔ بہت دن سے سونا وہ کونا پڑا ہے

— رند لکھنوی