رند لکھنوی

لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی

26 April 2026

16سپیکرز
198لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

الفت نہ کروں گا اب کسی کی

الفت نہ کروں گا اب کسی کی دشمن ہوا جس سے دوستی کی حالت کہوں اپنی بے خودی کی دل دے کے سنو جو میرے جی کی اول اول بھلائیاں کیں آخر آخر بہت بری کی مصروف ہے سینہ کوبی میں دل آتی ہے صدا دھڑا دھڑی کی الفت پہ تیری خاتمہ ہے اب لے لے قسم تو عاشقی کی کرتے رہے اختراع آپھی تقلید نہ کی کبھی کسی کی رونے پہ میرے ہنستے ہیں آپ ہنس لیجئے بات ہے ہنسی کی کیوں کر نہ فریفتہ ہو انساں تن حور کا شکل ہے پری کی شیریں دہنو نہیں ہے زیبا تم باتیں کرو نہ پھیکی پھیکی دیوانہ ہوا ہوں اک پری کا تقصیر یہ ہے تو واقعی کی بے یار ہے دل کباب ساقی تکلیف نہ کر تو مے کشی کی آنکھیں لڑیں تجھ سے میں ہوا قتل ان ترکوں نے جنگ زرگری کی کرنے دو بدی جو کرتے ہیں غیر سنتا نہیں رندؔ وہ کسی کی

— رند لکھنوی