رند لکھنوی

لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی

26 April 2026

16سپیکرز
198لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

تہمت حسرت پرواز نہ مجھ پر باندھے

تہمت حسرت پرواز نہ مجھ پر باندھے وجہ کیا کھول کے صیاد نے پھر پر باندھے باغباں گھات میں صیاد ہمیشہ موجود آشیاں باغ میں بلبل کہو کیوں کر باندھے جو چھری دیکھ کے قصاب کی تھراتے تھے شان حق ہے وہی اب پھرتے ہیں خنجر باندھے کل کیا تھا جو مرے چاک گریباں میں رفو اس خطا پر گئے ہیں آج رفو گر باندھے ہو چکا تھا جو مرے تیز پری سے آگاہ چست کر کے مرے صیاد نے شہ پر باندھے شعرا کھائیں گے کیا کیا نہ ابھی تو دھوکے سرو باندھے کوئی اس قد کو صنوبر باندھے معجزہ لب ترا گویا کرے اے رشک کلیم جو زباں سحر سے یہ چشم فسوں گر باندھے مطمئن بیٹھ تو صیاد نہ کر قید شدید ہوں میں پابند محبت ترا بے پر باندھے باغ عالم میں اسی کے لیے ہے نشو و نما صورت غنچہ رہے گانٹھ میں جو زر باندھے بوسہ مانگا جو شب وصل تو بولا ہنس کر کہیں ایسا نہ ہو ہر روز کی تو کر باندھے دل کی بیتابی سے ٹانکے مرے سب ٹوٹ گئے پٹی جراح کہو زخم پہ کیوں کر باندھے لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے آشیاں بام پر اس کے نہ کبوتر باندھے امتی کیا کریں الجوع نہ چلائیں اگر بھوک میں جبکہ نبی پیٹ پہ پتھر باندھے افترا کرنے میں طوفان ہے وہ شوخ ظریف توتیا تازہ کوئی اور نہ مجھ پر باندھے مجھ سا محرم ترے محرم کا نہ ہوگا کوئی بیشتر کھول دیے بند اور اکثر باندھے دست صنعت سے بنے اس کے اگر تجھ سا بت کیوں ہوا اپنی خدائی کی نہ آذر باندھے شاعری کے لئے لازم ہے تلازم نہ چھٹے لعل لب کو ترے تو دانتوں کو گوہر باندھے پائے رفتار اگر ہوتے تو چلتا پھرتا رندؔ مردا سا پڑا رہتا نہ یوں سر باندھے

— رند لکھنوی