رند لکھنوی

لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی

26 April 2026

16سپیکرز
198لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریں

گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریں جو بات مانو تو منت ہزار بار کریں یہ ہاتھ کیسے ہیں بیکار کچھ تو کار کریں بہار آئی گریبان تار تار کریں کہاں سے لائیں اب اس کو جو ہمکنار کریں تسلی کیا تری او جان بے قرار کریں وہ ربط تم سے بڑھائیں وہ تم کو یار کریں ہزار طرح کے جو جبر اختیار کریں گرائے سیل عناصر کی چار دیواری خراب خانۂ تن چشم اشکبار کریں تمہارے در سے نہ مایوس جائیں حاجت مند قبول ہووے جو توبہ گناہ گار کریں کفن بھی ہو گیا میلا دھرے دھرے اے موت تمام عمر ہوئی کب تک انتظار کریں برنگ غنچہ زباں ہے دہاں میں زیر زباں تمہارے قول کا کیا خاک اعتبار کریں گدا ترے در دولت کے ہیں یہ مستغنی جو سلطنت بھی ملے تو نہ اختیار کریں غرور حسن سے ہرگز سنے گا ایک نہ گل چمن میں نالے اگر بلبلیں ہزار کریں سنائے رکھتا ہوں سب کو مری وصیت ہے کہ تا اسی پہ عمل میرے غم گسار کریں چراغ زیست جب اس ننگ دودماں کا ہو گل عزیز شمع نہ روشن سر مزار کریں ترے سوا ہے کریم اور رحیم کس کی ذات نجات کس سے طلب ہم گناہ گار کریں بجائے سرمہ لگائیں غبار کوچۂ یار یہی علاج ترا چشم اشکبار کریں ستم شعار جفا پیشہ بے مروت ہے سراہیے جگر ان کے جو تجھ کو پیار کریں بڑھا کے لکھیں نہ شاعر حدیث زلف رسا ہوا ہے طول مناسب ہے اختصار کریں در کریم سے آتی ہے متصل یہ صدا وہ کیوں نہ پائے جسے ہم امیدوار کریں یہ بت اٹھائیں جو قرآں بھی کعبے میں اے رندؔ خدا سے ہم تو ہوں منکر جو اعتبار کریں

— رند لکھنوی