رند لکھنوی

لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی

26 April 2026

16سپیکرز
198لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی

منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی دیکھ لی اے حور طلعت دیکھ لی شکل بدلی اور صورت ہو گئی اک نظر جس نے وہ صورت دیکھ لی ایک بت سجدہ نہیں کرتا تجھے بس خدایا تیری قدرت دیکھ لی ہے عیاں حال سگ اصحاب کہف جانور کی آدمیت دیکھ لی چار دن بھی تو نہ تم سے نبھ سکی آپ کی صاحب سلامت دیکھ لی جانتے تھے ہم نہ ایذا ہجر کی وہ بھی صاحب کی بدولت دیکھ لی گھورتے ہیں اب نگاہ قہر سے چار دن چشم عنایت دیکھ لی کیوں اجل اب زہر پسواتا ہوں میں راہ تیری ایک مدت دیکھ لی کھل گئی بندے پہ قدر و منزلت تھی جو صاحب کی حقیقت دیکھ لی جا کے گھر جھوٹوں نہ پوچھی بات تک بس تری جھوٹی محبت دیکھ لی اس سے کہہ عادت سے جو واقف نہ ہو دیکھ لی خو تیری خصلت دیکھ لی بحر ہستی میں فقط مثل حباب ہے مجھے اک دم کی مہلت دیکھ لی آپ حیراں ہوگا اپنے حسن کا آئینے میں گر وہ صورت دیکھ لی چاندنی راتوں میں چلاتا پھرا چاند سی جس نے وہ صورت دیکھ لی پھر وہی ہے بوریا اور اپنا فقر چار دن کی جاہ و حشمت دیکھ لی کیوں چراتا ہے وہ کافر مجھ سے آنکھ کیا نگاہ چشم حسرت دیکھ لی یاد آیا رندؔ وہ پیماں شکن گر کہیں باہم محبت دیکھ لی

— رند لکھنوی