رند لکھنوی

لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی

26 April 2026

16سپیکرز
198لسنرز

سپیکرز

وقاراحسن کا پیش کردہ کلام

ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطے

ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطے کون مرتا ہے کسی کے واسطے آدمی سہتا ہے کیا کیا ذلتیں نفس مردود شقی کے واسطے ہم بھی جائیں گے سلیماں تک کبھی عرض کرنے اک پری کے واسطے در بدر کوچوں میں ہم بھی پھر چکے ایک حسن خانگی کے واسطے کشت زار زعفراں سے کم نہیں رنگ زرد اپنا ہنسی کے واسطے کیوں دیے ہیں تو نے قسام ازل رنج لاکھوں ایک جی کے واسطے دو زکات حسن کچھ درویش کو ہیں بڑے رتبے سخی کے واسطے اک سے اک ہیں ایک سے لے لاکھ تک صف شکن مرد جری کے واسطے غم نے اس درجہ کیا دل میں ہجوم جا نہیں ہے خرمی کے واسطے اور کیا ہو یار کی آنکھوں سے کام خلق ہیں جادوگری کے واسطے یاد رکھنا شرط اور مشروط ہے آدمیت آدمی کے واسطے رنج و اندوہ و ملال و درد و غم صدمے ہیں یہ آدمی کے واسطے سبزۂ مدفن اگا تھا کیوں فلک آہوؤں کی کیا چری کے واسطے لڑ گئے وہ اک ذرا سی بات میں پہروں روٹھے اک گھڑی کے واسطے جی نہ گھبرائے ترا بے مشغلے عشق کر لے دل لگی کے واسطے کیا مجھے پیدا کیا ہے اے خدا ان بتوں کی بندگی کے واسطے بے کسی میرے لیے پیدا ہوئی میں بنا ہوں بے کسی کے واسطے بولا مرغ نامہ بر کو کر کے ذبح یہ سزا ہے ایلچی کے واسطے دھگدگی میں جان اٹکی ہے مری ہائے کس چمپا کلی کے واسطے باریاب خلوت محبوب ہے کیا شرف ہے آرسی کے واسطے مرقد تیرہ میں کافی ہے مجھے داغ سودا روشنی کے واسطے کیجئے ہر دم عبث تن پروری اے اجل کس زندگی کے واسطے خامۂ قدرت نے کھینچیں وہ بھویں راستی یہ ہے کجی کے واسطے حشر کے دن رندؔ کو بخشائیو یا علی روح نبی کے واسطے

— رند لکھنوی