پروین ام مشتاق

واعظ شراب و حور کی الفت میں غرق ہے پروین ام مشتاق

20 April 2026

19سپیکرز
307لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

وقت پر آتے ہیں نہ جاتے ہیں

وقت پر آتے ہیں نہ جاتے ہیں روز اقرار بھول جاتے ہیں وہ جو بے وجہ مسکراتے ہیں سیکڑوں وہم دل میں آتے ہیں اشک حسرت نکل کے دامن میں جان سے ہاتھ دھوئے آتے ہیں جب تم آتے نہیں ہو وعدہ پر ملک الموت کو بلاتے ہیں سو گیا بخت جب سے رو رو کر سارے ہم سایوں کو جگاتے ہیں ان کو شرم و حیا نہیں آتی دل چرا کر نظر چراتے ہیں بے خطا ہے وہ آسماں مجرم اس کو الزام کیوں لگاتے ہیں جان کر بن گئے ہیں ہم بھولے چٹکیوں میں کسے اڑاتے ہیں تیرے کوچہ میں ہم بھی اب تھک کر دل کے مانند بیٹھے جاتے ہیں غیر کیا اور اس کی ہستی کیا آپ کیوں مفت خوف کھاتے ہیں کوئی تازہ ستم کیا ایجاد دیکھ کر وہ جو مسکراتے ہیں آگ پانی میں کیوں لگاتے ہو نیک جو لوگ ہیں بجھاتے ہیں تم مرے دل میں ہو تو دیکھوں میں حور و غلماں کہیں سماتے ہیں میں نے پوچھی جو وجہ قتل کہا ٹھہرو دم لے کے ہم بتاتے ہیں عشق تیرے طفیل دنیا کے طنزیں سنتے ہیں طعنے کھاتے ہیں بے سبب کیا بگڑنے کا باعث آپ پرویںؔ کو بھی بناتے ہیں

— پروین ام مشتاق