پروین ام مشتاق

واعظ شراب و حور کی الفت میں غرق ہے پروین ام مشتاق

20 April 2026

19سپیکرز
307لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں

نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں دن بہ دن حسن کے اعجاز نظر آتے ہیں وہ شہید نگہ ناز نظر آتے ہیں آج کل اور ہی انداز نظر آتے ہیں سر جھکائے ہوئے چلتا ہوں ترے کوچہ میں کیونکہ سر باز ہی سر باز نظر آتے ہیں بہت اونچے نہ اڑے ہیں نہ اڑیں گے گیسو یہ کبوتر تو گرہ باز نظر آتے ہیں جھوٹ خود بولنا الٹا مجھے جھوٹا کہنا سچ ہے دم بازوں کو دم باز نظر آتے ہیں بھیج تو دی ہے غزل دیکھیے خوش ہوں کہ نہ ہوں کچھ کھٹکتے ہوئے الفاظ نظر آتے ہیں غمزہ و ناز و ادا مہر و وفا جور و جفا سب کے سب خانہ بر انداز نظر آتے ہیں لطف آئے جو شب وصل موذن سو جائے کیونکہ وہ گوش بر آواز نظر آتے ہیں عمر گزری ہمیں سرکار پہ مرتے مرتے جان دیتے ہیں تو جاں باز نظر آتے ہیں بلبلوں سے نہیں گل زار زمانہ خالی شکر ہے یاں بھی ہم آواز نظر آتے ہیں بد گمانی بھی محبت کا نشاں ہے پرویںؔ غلطی ہو تو ہو ناراض نظر آتے ہیں

— پروین ام مشتاق