پروین ام مشتاق

واعظ شراب و حور کی الفت میں غرق ہے پروین ام مشتاق

20 April 2026

19سپیکرز
307لسنرز

سپیکرز

آزاد کا پیش کردہ کلام

کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے

کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے ابھی اس کی دنیا کو لذت نہیں ہے اگر تم کو ملنے کی فرصت نہیں ہے مجھے بھی زیادہ ضرورت نہیں ہے بہت خوش نما ہے گلستان عالم مگر سیر کرنے کی فرصت نہیں ہے بہت سے گھروں میں خزانے ہیں مدفوں نہیں ہے تو گنج قناعت نہیں ہے کہاں تک نہ بے ہوش و بے خود کرے گی مئے وصل ہے کوئی شربت نہیں ہے خیالات میں اپنے ہوں غرق واعظ مجھے کہنے سننے کی فرصت نہیں ہے دکھاتے نہیں شرم سے روئے روشن کوئی کامیابی کی صورت نہیں ہے تزلزل میں کس واسطے ہے زمانہ شب ہجر ہے یہ قیامت نہیں ہے کہاں اے پری تو کہاں حور جنت تری اس کی آپس میں نسبت نہیں ہے مری قمریوں کے سوا کون انساں یہ شمشاد ہے اس کی قامت نہیں ہے وہ اٹھے تو لاکھوں ہی فتنے اٹھیں گے وہ قامت بھی کم از قیامت نہیں ہے نہ کیوں دل لگے یاں وہ ہے اور خلوت یہ حورا نہیں ہے یہ جنت نہیں ہے جفائیں نہ کیجے نہ کیجے نہ کیجے تحمل کی اب مجھ کو طاقت نہیں ہے تلاطم میں مصروف ہے قطرہ قطرہ کوئی شے یہاں بے حقیقت نہیں ہے جہاں تک بنے تم سے بیداد کر لو اگر آنے والی قیامت نہیں ہے لرزتا ہے کیوں ڈر سے اے جسم لاغر یہ دھڑکا ہے دل کا قیامت نہیں ہے حسینوں کی چاہت حسینوں کی الفت مصیبت بھی ہے اور مصیبت نہیں ہے تمہیں عاشق اور مجھ کو معشوق لاکھوں یہاں آدمیوں کی قلت نہیں ہے سنبھل کر ذرا ناز و اغماض کیجے حسینوں کی دنیا میں قلت نہیں ہے زمانہ میں ہونے کو سب کچھ ہے پرویںؔ ہمیں کیا امید شفاعت نہیں ہے

— پروین ام مشتاق