پروین ام مشتاق

واعظ شراب و حور کی الفت میں غرق ہے پروین ام مشتاق

20 April 2026

19سپیکرز
307لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

مجھ کو دنیا کی تمنا ہے نہ دیں کا لالچ

مجھ کو دنیا کی تمنا ہے نہ دیں کا لالچ ہائے لالچ ہے تو اک ماہ جبیں کا لالچ عشق بازی پہ سنا مجھ کو ملامت نہ کرو حیف ہے جس کو نہ ہو تم سے حسیں کا لالچ حالت قلب سر بزم بتاؤں کیوں کر پردۂ دل میں ہے اک پردہ نشیں کا لالچ جب یہیں طیش میں گزرے تو وہاں کیا امید نہ رہا اس لئے ہم کو تو کہیں کا لالچ بوریا تخت سلیماں سے کہیں بہتر ہے ہم غریبوں کو نہیں تاج و نگیں کا لالچ نہ میں دنیا کا طلب گار نہ عقبیٰ کی ہوس آسمانوں کی تمنا نہ زمیں کا لالچ دل بھی دو جان بھی دو زر بھی دو اس کو پرویںؔ بڑھ گیا سب سے مرے ماہ جبیں کا لالچ

— پروین ام مشتاق