پروین ام مشتاق

واعظ شراب و حور کی الفت میں غرق ہے پروین ام مشتاق

20 April 2026

19سپیکرز
307لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

خاک کر ڈالیں ابھی چاہیں تو مے خانہ کو ہم

خاک کر ڈالیں ابھی چاہیں تو مے خانہ کو ہم ایک ساغر کو بھرو تم ایک پیمانے کو ہم مجھ سے ہم آغوش ہو کر یوں کہا اور سچ کہا ہوشیار اس طرح کر دیتے ہیں دیوانے کو ہم نزع میں آئے ہیں صد افسوس جیتے جی نہ آئے وہ ہیں آنے کو تو اب تیار ہیں جانے کو ہم بے نتیجہ ان پہ مرنا یاد آتا ہے ہمیں شمع پر جب دیکھتے ہیں مرتے پروانے کو ہم کوہ کن اور قیس کی قبروں سے آتی ہے صدا کیا مکمل کر گئے الفت کے افسانے کو ہم ایک پتا بھی نہیں ہلتا بجز حکم خدا کس طرح آباد کر لیں اپنے ویرانے کو ہم ایک دن یہ ہے کہ ہیں اک شمع رو پر خود نثار ایک دن وہ تھا برا کہتے تھے پروانے کو ہم ابرووں نے سچ کہا اس کے اشارہ کی ہے دیر دیکھتے بالکل نہیں پھر اپنے بیگانے کو ہم جان جائے یا رہے اس کو سنائیں گے ضرور قیس کے پردہ میں پرویںؔ اپنے افسانے کو ہم

— پروین ام مشتاق