شبنم شکیل

نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل

16 April 2026

13سپیکرز
232لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے

عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے دنیا کو حال ہی نہیں حلیہ بھی چاہیے اے دل کسی بھی طرح مجھے دستیاب کر جتنا بھی چاہیے اسے جیسا بھی چاہیے دکھ ایسا چاہیے کہ مسلسل رہے مجھے اور اس کے ساتھ ساتھ انوکھا بھی چاہیے اک زخم مجھ کو چاہیے میرے مزاج کا یعنی ہرا بھی چاہیے گہرا بھی چاہیے اک ایسا وصف چاہیے جو صرف مجھ میں ہو اور اس میں پھر مجھے ید طولٰی بھی چاہیے رب سخن مجھے تری یکتائی کی قسم اب کوئی سن کے بولنے والا بھی چاہیے کیا ہے جو ہو گیا ہوں میں تھوڑا بہت خراب تھوڑا بہت خراب تو ہونا بھی چاہیے ہنسنے کو صرف ہونٹ ہی کافی نہیں رہے جوادؔ شیخ اب تو کلیجہ بھی چاہیے

— جواد شیخ