سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
مجبور ہیں پر اتنے تو مجبور بھی نہیں
مجبور ہیں پر اتنے تو مجبور بھی نہیں جب ان کو بھول جائیں وہ دن دور بھی نہیں کچھ تو لکھی ہیں اپنے مقدر میں گردشیں کچھ پیار میں نباہ کا دستور بھی نہیں میں نے سنا ہے ترک تعلق کے بعد سے افسردہ گر نہیں تو وہ مسرور بھی نہیں دیکھی ہیں میں نے ایسی بھی دکھیا سہاگنیں بیاہی ہیں اور مانگ میں سیندور بھی نہیں یہ جس کا زہر روح میں میری اتر گیا ہلکا سا گھاؤ تھا کوئی ناسور بھی نہیں اس کی نظر سے کیوں کبھی گزرے مری غزل ایسی تو خاص میں کوئی مشہور بھی نہیں
آئین وفا اتنا بھی سادہ نہیں ہوتا
آئین وفا اتنا بھی سادہ نہیں ہوتا ہر بار مسرت کا اعادہ نہیں ہوتا یہ کیسی صداقت ہے کہ پردوں میں چھپی ہے اخلاص کا تو کوئی لبادہ نہیں ہوتا جنگل ہو کہ صحرا کہیں رکنا ہی پڑے گا اب مجھ سے سفر اور زیادہ نہیں ہوتا اک آنچ کی پہلے بھی کسر رہتی رہی ہے کیوں ساتواں در مجھ پہ کشادہ نہیں ہوتا سچ بات مرے منہ سے نکل جاتی ہے اکثر ہر چند مرا ایسا ارادہ نہیں ہوتا اے حرف ثنا سحر مسلم ترا تجھ سے بڑھ کر تو کوئی ساغر بادہ نہیں ہوتا افسانۂ افسون جوانی کے علاوہ کس بات کا دنیا میں اعادہ نہیں ہوتا سورج کی رفاقت میں چمک اٹھتا ہے چہرہ شبنمؔ کی طرح سے کوئی سادہ نہیں ہوتا
سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیں
سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیں ہمارے ساتھ چلو گرد رہ گزر ہم ہیں لکھی ہیں چہروں پہ جو سرخیاں پڑھو ان کو خبر ہو عام کہ دنیا سے با خبر ہم ہیں اکیلا پن ہمیں محسوس کب ہوا اب تک کہ دشت دشت ہیں لیکن نگر نگر ہم ہیں گھنیرے سائے نہ ڈھونڈو یہیں پہ دم لو ذرا کہ جس کی چھاؤں میں ٹھنڈک ہے وہ شجر ہم ہیں سمندروں سے کہو وہ سمٹ کے آ جائیں کہ اس جہاں میں اکیلے ہی کوزہ گر ہم ہیں وہ خوب شخص ہے دیکھا ہے مل کے ہم نے اسے مگر ہے یہ بھی حقیقت کہ خوب تر ہم ہیں