شبنم شکیل

نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل

16 April 2026

13سپیکرز
232لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

مجبور ہیں پر اتنے تو مجبور بھی نہیں

مجبور ہیں پر اتنے تو مجبور بھی نہیں جب ان کو بھول جائیں وہ دن دور بھی نہیں کچھ تو لکھی ہیں اپنے مقدر میں گردشیں کچھ پیار میں نباہ کا دستور بھی نہیں میں نے سنا ہے ترک تعلق کے بعد سے افسردہ گر نہیں تو وہ مسرور بھی نہیں دیکھی ہیں میں نے ایسی بھی دکھیا سہاگنیں بیاہی ہیں اور مانگ میں سیندور بھی نہیں یہ جس کا زہر روح میں میری اتر گیا ہلکا سا گھاؤ تھا کوئی ناسور بھی نہیں اس کی نظر سے کیوں کبھی گزرے مری غزل ایسی تو خاص میں کوئی مشہور بھی نہیں

— شبنم شکیل

آئین وفا اتنا بھی سادہ نہیں ہوتا

آئین وفا اتنا بھی سادہ نہیں ہوتا ہر بار مسرت کا اعادہ نہیں ہوتا یہ کیسی صداقت ہے کہ پردوں میں چھپی ہے اخلاص کا تو کوئی لبادہ نہیں ہوتا جنگل ہو کہ صحرا کہیں رکنا ہی پڑے گا اب مجھ سے سفر اور زیادہ نہیں ہوتا اک آنچ کی پہلے بھی کسر رہتی رہی ہے کیوں ساتواں در مجھ پہ کشادہ نہیں ہوتا سچ بات مرے منہ سے نکل جاتی ہے اکثر ہر چند مرا ایسا ارادہ نہیں ہوتا اے حرف ثنا سحر مسلم ترا تجھ سے بڑھ کر تو کوئی ساغر بادہ نہیں ہوتا افسانۂ افسون جوانی کے علاوہ کس بات کا دنیا میں اعادہ نہیں ہوتا سورج کی رفاقت میں چمک اٹھتا ہے چہرہ شبنمؔ کی طرح سے کوئی سادہ نہیں ہوتا

— شبنم شکیل

سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیں

سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیں ہمارے ساتھ چلو گرد رہ گزر ہم ہیں لکھی ہیں چہروں پہ جو سرخیاں پڑھو ان کو خبر ہو عام کہ دنیا سے با خبر ہم ہیں اکیلا پن ہمیں محسوس کب ہوا اب تک کہ دشت دشت ہیں لیکن نگر نگر ہم ہیں گھنیرے سائے نہ ڈھونڈو یہیں پہ دم لو ذرا کہ جس کی چھاؤں میں ٹھنڈک ہے وہ شجر ہم ہیں سمندروں سے کہو وہ سمٹ کے آ جائیں کہ اس جہاں میں اکیلے ہی کوزہ گر ہم ہیں وہ خوب شخص ہے دیکھا ہے مل کے ہم نے اسے مگر ہے یہ بھی حقیقت کہ خوب تر ہم ہیں

— شبنم شکیل