سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
بے وجہ تحفظ کی ضرورت بھی نہیں ہے
بے وجہ تحفظ کی ضرورت بھی نہیں ہے ایسی مرے اندر کوئی عورت بھی نہیں ہے ہاں ان کو بھلا ڈالیں گے اک عمر پڑی ہے اس کام میں ایسی کوئی عجلت بھی نہیں ہے کس منہ سے گلہ ایسی نگاہوں سے کہ جن میں پہچان کی اب کوئی علامت بھی نہیں ہے ان کو بھی مجھے شعر سنانے کا ہوا حکم کچھ شعر سے جن کو کوئی نسبت بھی نہیں ہے میرے بھی تو ماضی کی بہت سی ہیں کتابیں پر ان کو پلٹنے کی تو فرصت بھی نہیں ہے کچھ تم سے گلہ اور کچھ اپنے سے کہ مجھ کو ہر حال میں خوش رہنے کی عادت بھی نہیں ہے میں دفن رہوں اب یوں ہی ریشم کے کفن میں اب اس کے سوا اور تو صورت بھی نہیں ہے
چلتے رہے تو کون سا اپنا کمال تھا
چلتے رہے تو کون سا اپنا کمال تھا یہ وہ سفر تھا جس میں ٹھہرنا محال تھا اک دوسرے کا قرب ہوا خوف میں نصیب اب شہر میں ہر اک کو ہر اک کا خیال تھا رہتی تھی اس میں آٹھ پہر اک چہل پہل رونق میں دل کا شہر کبھی بے مثال تھا ! میں خود میں گم تھی اور مجھے اپنی خبر نہ تھی دیکھا جو آئینہ تو عجب میرا حال تھا ۔۔۔! اک سایہ میرے ساتھ جو چلتا تھا رات دن مجھ سے بھی بڑھ کے اُس کو تو میرا خیال تھا غم کا حصول امرِ اضافی ہے زیست میں یہ جاننا مرے لیے وجہِ ملال تھا ۔۔۔! آخر شکستِ دل میرا اعزاز بن گئی! باعث مرے عروج کا میرا زوال تھا