شبنم شکیل

نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل

16 April 2026

13سپیکرز
232لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

بے وجہ تحفظ کی ضرورت بھی نہیں ہے

بے وجہ تحفظ کی ضرورت بھی نہیں ہے ایسی مرے اندر کوئی عورت بھی نہیں ہے ہاں ان کو بھلا ڈالیں گے اک عمر پڑی ہے اس کام میں ایسی کوئی عجلت بھی نہیں ہے کس منہ سے گلہ ایسی نگاہوں سے کہ جن میں پہچان کی اب کوئی علامت بھی نہیں ہے ان کو بھی مجھے شعر سنانے کا ہوا حکم کچھ شعر سے جن کو کوئی نسبت بھی نہیں ہے میرے بھی تو ماضی کی بہت سی ہیں کتابیں پر ان کو پلٹنے کی تو فرصت بھی نہیں ہے کچھ تم سے گلہ اور کچھ اپنے سے کہ مجھ کو ہر حال میں خوش رہنے کی عادت بھی نہیں ہے میں دفن رہوں اب یوں ہی ریشم کے کفن میں اب اس کے سوا اور تو صورت بھی نہیں ہے

— شبنم شکیل

چلتے رہے تو کون سا اپنا کمال تھا

چلتے رہے تو کون سا اپنا کمال تھا یہ وہ سفر تھا جس میں ٹھہرنا محال تھا اک دوسرے کا قرب ہوا خوف میں نصیب اب شہر میں ہر اک کو ہر اک کا خیال تھا رہتی تھی اس میں آٹھ پہر اک چہل پہل رونق میں دل کا شہر کبھی بے مثال تھا ! میں خود میں گم تھی اور مجھے اپنی خبر نہ تھی دیکھا جو آئینہ تو عجب میرا حال تھا ۔۔۔! اک سایہ میرے ساتھ جو چلتا تھا رات دن مجھ سے بھی بڑھ کے اُس کو تو میرا خیال تھا غم کا حصول امرِ اضافی ہے زیست میں یہ جاننا مرے لیے وجہِ ملال تھا ۔۔۔! آخر شکستِ دل میرا اعزاز بن گئی! باعث مرے عروج کا میرا زوال تھا​

— شبنم شکیل