سپیکرز
آزاد کا پیش کردہ کلام
اندیشہ ہائے روز مکافات اور میں
اندیشہ ہائے روز مکافات اور میں اس دل کے بے شمار سوالات اور میں خلق خدا پہ خلق خدا کی یہ دار و گیر حیراں خدائے ارض و سماوات اور میں کیا تھی خوشی اور اس کی تھی کیا قیمت خرید اب رہ گئے ہیں ایسے حسابات اور میں ہر لحظہ زندگی کی عنایات اور وہ ہر لمحہ ایک مرگ مفاجات اور میں پہلے صداقتوں کے وہ پرچار اور دل اب قول و فعل کے یہ تضادات اور میں ہاروں گی میں ہی مجھ کو یہ وہم و گماں نہ تھا آپس میں جب حریف تھے حالات اور میں ہم راز و ہم سخن تھا مگر اس کے باوجود ٹکرائے میرے دل کے مفادات اور میں
ہم راہ مرے کوئی مسافر نہ چلا تھا
ہم راہ مرے کوئی مسافر نہ چلا تھا دھوکا مجھے خود اپنی ہی آہٹ سے ہوا تھا مسدود ہوئی جس کی ہر اک راہ سراسر اس صف میں مجھے لا کے کھڑا کس نے کیا تھا جنبش ہی سے ہونٹوں کی جو کچھ سمجھو تو سمجھو اس گنگ محل میں تو بس اتنا ہی روا تھا تعمیر ہوئے گھر تو گئے جانے کہاں وہ جن خانہ بدوشوں کا یہاں خیمہ لگا تھا دھندلائے خد و خال گر اس کے تو عجب کیا دیکھے ہوئے یوں بھی اسے یگ بیت گیا تھا شب شعلہ بداماں تو سحر سوختہ ساماں دو روپ بدلتا تھا عجب وہ بھی دیا تھا