شبنم شکیل

نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل

16 April 2026

13سپیکرز
232لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

سب توڑ کے بندھن دنیا کے میں پیار کی جوت جگاؤں گی

سب توڑ کے بندھن دنیا کے میں پیار کی جوت جگاؤں گی اب مایا جال سے نکلوں گی اور جوگنیا کہلاؤں گی تو نے تو پریم کی کٹیا کو پل بھر میں جلا کر راکھ کیا اب میری چتا تیار کرو میں ساتھ ستی ہو جاؤں گی یہ دنیا لوبھن ناری ہے ہنس ہنس کر سب سے کہتی ہے تم سونے کے بن کر آؤ میں جے مالا پہناؤں گی تم من دھن پریم کے مندر پر میں وار کے باہر بیٹھی ہوں اک سانس کی دوری اٹکی ہے اب اس کی بھینٹ چڑھاؤں گی یہ میلی اوڑھنی اوڑھوں گی وہ آئے گا تو دھو لوں گی وہ کھیلے دھن میں دولت میں اب میں اس دوار نہ جاؤں گی اک مورکھ سے بیوپاری نے بن مول مرا من بیچ دیا میں نگری نگری گھوموں گی اور پریم کا مول چکاؤں گی نینوں کا کجرا بھیگ گیا بینی کا گجرا ٹوٹ گیا اب بھور بھئے گھر آیا تو بن کر میں سو جاؤں گی

— شبنم شکیل

بیٹھے ہیں چین سے کہیں جانا تو ہے نہیں

بیٹھے ہیں چین سے کہیں جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ٹھکانا تو ہے نہیں تم بھی ہو بیتے وقت کے مانند ہو بہو تم نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے کس لیے خائف ہو میری جان کر لو کہ تم نے عہد نبھانا تو ہے نہیں وہ جو ہمیں عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہو ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے ترے فریب میں آنا تو ہے نہیں وہ عشق تو کرے گا مگر دیکھ بھال کے فارسؔ وہ تیرے جیسا دوانہ تو ہے نہیں

— رحمان فارس