سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
سب توڑ کے بندھن دنیا کے میں پیار کی جوت جگاؤں گی
سب توڑ کے بندھن دنیا کے میں پیار کی جوت جگاؤں گی اب مایا جال سے نکلوں گی اور جوگنیا کہلاؤں گی تو نے تو پریم کی کٹیا کو پل بھر میں جلا کر راکھ کیا اب میری چتا تیار کرو میں ساتھ ستی ہو جاؤں گی یہ دنیا لوبھن ناری ہے ہنس ہنس کر سب سے کہتی ہے تم سونے کے بن کر آؤ میں جے مالا پہناؤں گی تم من دھن پریم کے مندر پر میں وار کے باہر بیٹھی ہوں اک سانس کی دوری اٹکی ہے اب اس کی بھینٹ چڑھاؤں گی یہ میلی اوڑھنی اوڑھوں گی وہ آئے گا تو دھو لوں گی وہ کھیلے دھن میں دولت میں اب میں اس دوار نہ جاؤں گی اک مورکھ سے بیوپاری نے بن مول مرا من بیچ دیا میں نگری نگری گھوموں گی اور پریم کا مول چکاؤں گی نینوں کا کجرا بھیگ گیا بینی کا گجرا ٹوٹ گیا اب بھور بھئے گھر آیا تو بن کر میں سو جاؤں گی
بیٹھے ہیں چین سے کہیں جانا تو ہے نہیں
بیٹھے ہیں چین سے کہیں جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ٹھکانا تو ہے نہیں تم بھی ہو بیتے وقت کے مانند ہو بہو تم نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے کس لیے خائف ہو میری جان کر لو کہ تم نے عہد نبھانا تو ہے نہیں وہ جو ہمیں عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہو ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے ترے فریب میں آنا تو ہے نہیں وہ عشق تو کرے گا مگر دیکھ بھال کے فارسؔ وہ تیرے جیسا دوانہ تو ہے نہیں