سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤ
تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤ کوئی اب جاں بلب ہے مل جاؤ لوٹ کر اب نہ آ سکیں شاید یہ مسافت عجب ہے مل جاؤ دل دھڑکتے ہوئے بھی ڈرتا ہے کتنی سنسان شب ہے مل جاؤ اس سے پہلے نہیں ہوا تھا کبھی دل کا جو حال اب ہے مل جاؤ خواہشیں بے سبب بھی ہوتی ہیں کیا کہیں کیا سبب ہے مل جاؤ کون اب اور انتظار کرے اتنی مہلت ہی کب ہے مل جاؤ
یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں
یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں کہ دور دور کے منظر بہت قریب سے ہیں قبائے زر ہے انا کی اگرچہ زیب بدن مگر یہ اہل ہنر دل کے سب غریب سے ہیں یہاں تو سب ہی اشاروں میں بات کرتے ہیں عجیب شہر ہے اس کے مکیں عجیب سے ہیں میں زندگی میں مروں گی نہ جانے کتنی بار مجھے خبر ہے کہ رشتے مرے صلیب سے ہیں یہ اور بات کہ اس کی چہک سے کھلتا ہے ہزار شکوے مگر گل کو عندلیب سے ہیں اسے تو اپنی خبر بھی یہاں نہیں ملتی امیدیں تم کو بہت جس الم نصیب سے ہیں