شبنم شکیل

نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل

16 April 2026

13سپیکرز
232لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤ

تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤ کوئی اب جاں بلب ہے مل جاؤ لوٹ کر اب نہ آ سکیں شاید یہ مسافت عجب ہے مل جاؤ دل دھڑکتے ہوئے بھی ڈرتا ہے کتنی سنسان شب ہے مل جاؤ اس سے پہلے نہیں ہوا تھا کبھی دل کا جو حال اب ہے مل جاؤ خواہشیں بے سبب بھی ہوتی ہیں کیا کہیں کیا سبب ہے مل جاؤ کون اب اور انتظار کرے اتنی مہلت ہی کب ہے مل جاؤ

— شبنم شکیل

یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں

یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں کہ دور دور کے منظر بہت قریب سے ہیں قبائے زر ہے انا کی اگرچہ زیب بدن مگر یہ اہل ہنر دل کے سب غریب سے ہیں یہاں تو سب ہی اشاروں میں بات کرتے ہیں عجیب شہر ہے اس کے مکیں عجیب سے ہیں میں زندگی میں مروں گی نہ جانے کتنی بار مجھے خبر ہے کہ رشتے مرے صلیب سے ہیں یہ اور بات کہ اس کی چہک سے کھلتا ہے ہزار شکوے مگر گل کو عندلیب سے ہیں اسے تو اپنی خبر بھی یہاں نہیں ملتی امیدیں تم کو بہت جس الم نصیب سے ہیں

— شبنم شکیل