سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
نہ پوچھ دیکھ کے کتنا ملال ہوتا ہے
نہ پوچھ دیکھ کے کتنا ملال ہوتا ہے جو خواب دیکھنے والوں کا حال ہوتا ہے لبوں پہ مہر خموشی لگائی جاتی ہے اور اس کے بعد ہمیں سے سوال ہوتا ہے جب آئی شام مسافت تو پھر یہ راز کھلا ذرا سی دیر عروج و زوال ہوتا ہے ہر ایک شخص کی اپنی ہی ایک دنیا ہے کہاں کسی کو کسی کا خیال ہوتا ہے ہر ایک اوج محبت پہ آ نہیں سکتا کسی کسی میں ہی ایسا کمال ہوتا ہے رکی ہوئی ہوں اک ایسے سوال پر شبنمؔ جواب جس کا ہمیشہ محال ہوتا ہے
منظر سے کبھی دل کے وہ ہٹتا ہی نہیں ہے
منظر سے کبھی دل کے وہ ہٹتا ہی نہیں ہے اک شہر جو بستے ہوئے دیکھا ہی نہیں ہے کچھ منزلیں اب اپنا پتہ بھی نہیں دیتیں اور راستہ ایسا ہے کہ کٹتا ہی نہیں ہے اک نقش کہ بن بن کے بگڑتا ہی رہا ہے اک خواب کہ پورا کبھی ہوتا ہی نہیں ہے کیا ہم پہ گزرتی ہے تمہیں کیسے بتائیں تم نے تو پلٹ کر کبھی پوچھا ہی نہیں ہے اک عمر گنوائی ہے تو پھر دل کو ملا ہے وہ درد کہ جس کا کوئی چارہ ہی نہیں ہے یہ عشق کی وادی ہے ذرا سوچ سمجھ لو اس راہ پہ پاؤں کوئی دھرتا ہی نہیں ہے ڈھونڈے سے خدا ملتا ہے انسان ہے وہ تو تم نے اسے شبنمؔ کبھی ڈھونڈا ہی نہیں ہے