شبنم شکیل

نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل

16 April 2026

13سپیکرز
232لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

نہ پوچھ دیکھ کے کتنا ملال ہوتا ہے

نہ پوچھ دیکھ کے کتنا ملال ہوتا ہے جو خواب دیکھنے والوں کا حال ہوتا ہے لبوں پہ مہر خموشی لگائی جاتی ہے اور اس کے بعد ہمیں سے سوال ہوتا ہے جب آئی شام مسافت تو پھر یہ راز کھلا ذرا سی دیر عروج و زوال ہوتا ہے ہر ایک شخص کی اپنی ہی ایک دنیا ہے کہاں کسی کو کسی کا خیال ہوتا ہے ہر ایک اوج محبت پہ آ نہیں سکتا کسی کسی میں ہی ایسا کمال ہوتا ہے رکی ہوئی ہوں اک ایسے سوال پر شبنمؔ جواب جس کا ہمیشہ محال ہوتا ہے

— شبنم شکیل

منظر سے کبھی دل کے وہ ہٹتا ہی نہیں ہے

منظر سے کبھی دل کے وہ ہٹتا ہی نہیں ہے اک شہر جو بستے ہوئے دیکھا ہی نہیں ہے کچھ منزلیں اب اپنا پتہ بھی نہیں دیتیں اور راستہ ایسا ہے کہ کٹتا ہی نہیں ہے اک نقش کہ بن بن کے بگڑتا ہی رہا ہے اک خواب کہ پورا کبھی ہوتا ہی نہیں ہے کیا ہم پہ گزرتی ہے تمہیں کیسے بتائیں تم نے تو پلٹ کر کبھی پوچھا ہی نہیں ہے اک عمر گنوائی ہے تو پھر دل کو ملا ہے وہ درد کہ جس کا کوئی چارہ ہی نہیں ہے یہ عشق کی وادی ہے ذرا سوچ سمجھ لو اس راہ پہ پاؤں کوئی دھرتا ہی نہیں ہے ڈھونڈے سے خدا ملتا ہے انسان ہے وہ تو تم نے اسے شبنمؔ کبھی ڈھونڈا ہی نہیں ہے

— شبنم شکیل