سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
امل خان
ایم سعید
ثناجاوید
راجا اکرام قمر
عدنان جرال
فاران وڑائچ
فخر
کریسنٹ
معاذ نعیم
ملک
مونا
یادرفتگان
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں
یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں کہ دور دور کے منظر بہت قریب سے ہیں قبائے زر ہے انا کی اگرچہ زیب بدن مگر یہ اہل ہنر دل کے سب غریب سے ہیں یہاں تو سب ہی اشاروں میں بات کرتے ہیں عجیب شہر ہے اس کے مکیں عجیب سے ہیں میں زندگی میں مروں گی نہ جانے کتنی بار مجھے خبر ہے کہ رشتے مرے صلیب سے ہیں یہ اور بات کہ اس کی چہک سے کھلتا ہے ہزار شکوے مگر گل کو عندلیب سے ہیں اسے تو اپنی خبر بھی یہاں نہیں ملتی امیدیں تم کو بہت جس الم نصیب سے ہیں