شبنم شکیل

نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل

16 April 2026

13سپیکرز
232لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں

یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں کہ دور دور کے منظر بہت قریب سے ہیں قبائے زر ہے انا کی اگرچہ زیب بدن مگر یہ اہل ہنر دل کے سب غریب سے ہیں یہاں تو سب ہی اشاروں میں بات کرتے ہیں عجیب شہر ہے اس کے مکیں عجیب سے ہیں میں زندگی میں مروں گی نہ جانے کتنی بار مجھے خبر ہے کہ رشتے مرے صلیب سے ہیں یہ اور بات کہ اس کی چہک سے کھلتا ہے ہزار شکوے مگر گل کو عندلیب سے ہیں اسے تو اپنی خبر بھی یہاں نہیں ملتی امیدیں تم کو بہت جس الم نصیب سے ہیں

— شبنم شکیل