سپیکرز
گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام
ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے
ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے مگر یہ دکھ کہ مری عمر رائیگاں کم ہے مری نگاہ کی وسعت بھی اس میں شامل کر مری زمین پہ تیرا یہ آسماں کم ہے تجھے خبر بھی کہاں ہے مرے ارادوں کی تو میری سوچتی آنکھوں کا راز داں کم ہے اسی سے ہو گئے مانوس طائران چمن وہ جو کہ باغ کا دشمن ہے باغباں کم ہے اگرچہ شہر میں پھیلی کہانیاں ہیں بہت کوئی بھی سننے سنانے کو داستاں کم ہے نگاہ و دل پہ کھلی ہیں حقیقتیں کیسی یہ دل اداس زیادہ ہے شادماں کم ہے اب اس سے بڑھ کے بھی کوئی ہے پل صراط ابھی میں جی رہا ہوں یہاں جیسے امتحاں کم ہے
ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف
ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف تیرے لیے میں پاؤں پہ اپنے جم کے کھڑا تھا ایک طرف ایک اک کر کے ہر منزل کی سمت ہی بھول رہا تھا میں دھیرے دھیرے کھینچ رہا تھا تیرا رشتہ ایک طرف دونوں سے میں بچ کر تیرے خواب و خیال سے گزر گیا دل کا صحرا ایک طرف تھا آنکھ کا دریا ایک طرف آگے آگے بھاگ رہا ہوں اب وہ میرے پیچھے ہے اک دن تیری چاہ میں کی تھی میں نے دنیا ایک طرف دوسری جانب اک بادل نے بڑھ کر ڈھانپ لیا تھا چاند اور آنکھوں میں ڈوب رہا تھا دل کا ستارا ایک طرف وقت جواری کی بیٹھک میں جو آیا سو ہار گیا اخترؔ اک دن میں بھی دامن جھاڑ کے نکلا ایک طرف