اختر شمار

تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار

17 April 2026

11سپیکرز
139لسنرز

سپیکرز

گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام

ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے

ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے مگر یہ دکھ کہ مری عمر رائیگاں کم ہے مری نگاہ کی وسعت بھی اس میں شامل کر مری زمین پہ تیرا یہ آسماں کم ہے تجھے خبر بھی کہاں ہے مرے ارادوں کی تو میری سوچتی آنکھوں کا راز داں کم ہے اسی سے ہو گئے مانوس طائران چمن وہ جو کہ باغ کا دشمن ہے باغباں کم ہے اگرچہ شہر میں پھیلی کہانیاں ہیں بہت کوئی بھی سننے سنانے کو داستاں کم ہے نگاہ و دل پہ کھلی ہیں حقیقتیں کیسی یہ دل اداس زیادہ ہے شادماں کم ہے اب اس سے بڑھ کے بھی کوئی ہے پل صراط ابھی میں جی رہا ہوں یہاں جیسے امتحاں کم ہے

— اختر شمار

ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف

ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف تیرے لیے میں پاؤں پہ اپنے جم کے کھڑا تھا ایک طرف ایک اک کر کے ہر منزل کی سمت ہی بھول رہا تھا میں دھیرے دھیرے کھینچ رہا تھا تیرا رشتہ ایک طرف دونوں سے میں بچ کر تیرے خواب و خیال سے گزر گیا دل کا صحرا ایک طرف تھا آنکھ کا دریا ایک طرف آگے آگے بھاگ رہا ہوں اب وہ میرے پیچھے ہے اک دن تیری چاہ میں کی تھی میں نے دنیا ایک طرف دوسری جانب اک بادل نے بڑھ کر ڈھانپ لیا تھا چاند اور آنکھوں میں ڈوب رہا تھا دل کا ستارا ایک طرف وقت جواری کی بیٹھک میں جو آیا سو ہار گیا اخترؔ اک دن میں بھی دامن جھاڑ کے نکلا ایک طرف

— اختر شمار