سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
اپنی باہوں کو ہم نے پتوار کیا تھا
اپنی باہوں کو ہم نے پتوار کیا تھا تب جا کر وہ خون کا دریا پار کیا تھا پتھر پھینک کے لوگوں نے جب عزت بخشی ہم نے اپنے ہاتھوں کو دستار کیا تھا کون سے خواب نے رات اپنی آنکھیں کھولی تھیں کس کی خوشبو نے دل کو بیدار کیا تھا اس نے دل پر قبضہ کیا بن بیٹھا آمر ہم نے جس کی شاہی سے انکار کیا تھا بنتے گئے تھے اپنی ٹھوکر سے وہ رستے جن رستوں کو تو نے کل دیوار کیا تھا جن کو کبھی اک آنکھ نہ ہم بھائے تھے اخترؔ ہم نے ان کی نفرت سے بھی پیار کیا تھا
خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسے
خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسے دل مرا کوئے ملامت سے نکلتا کیسے سایۂ وہم و گماں چار طرف پھیلا ہے میں ابھی کرب و اذیت سے نکلتا کیسے میری رسوائی اگر ساتھ نہ دیتی میرا یوں سر بزم میں عزت سے نکلتا کیسے میری نظریں جو نہ پڑتیں تو وہاں پچھلی شب اک ستارا سا تری چھت سے نکلتا کیسے میں کہ برباد ہوا دید کی خاطر جس کی وہ مرے دیدۂ حیرت سے نکلتا کیسے اس کے دم ہی سے تو قائم ہے مرا جاہ و جلال وہ مرے دل کی حکومت سے نکلتا کیسے جاگ بیٹھا ہوں تو دل ڈوبا نہیں ہے اخترؔ سویا رہتا تو مصیبت سے نکلتا کیسے