اختر شمار

تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار

17 April 2026

11سپیکرز
139لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

اپنی باہوں کو ہم نے پتوار کیا تھا

اپنی باہوں کو ہم نے پتوار کیا تھا تب جا کر وہ خون کا دریا پار کیا تھا پتھر پھینک کے لوگوں نے جب عزت بخشی ہم نے اپنے ہاتھوں کو دستار کیا تھا کون سے خواب نے رات اپنی آنکھیں کھولی تھیں کس کی خوشبو نے دل کو بیدار کیا تھا اس نے دل پر قبضہ کیا بن بیٹھا آمر ہم نے جس کی شاہی سے انکار کیا تھا بنتے گئے تھے اپنی ٹھوکر سے وہ رستے جن رستوں کو تو نے کل دیوار کیا تھا جن کو کبھی اک آنکھ نہ ہم بھائے تھے اخترؔ ہم نے ان کی نفرت سے بھی پیار کیا تھا

— اختر شمار

خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسے

خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسے دل مرا کوئے ملامت سے نکلتا کیسے سایۂ وہم و گماں چار طرف پھیلا ہے میں ابھی کرب و اذیت سے نکلتا کیسے میری رسوائی اگر ساتھ نہ دیتی میرا یوں سر بزم میں عزت سے نکلتا کیسے میری نظریں جو نہ پڑتیں تو وہاں پچھلی شب اک ستارا سا تری چھت سے نکلتا کیسے میں کہ برباد ہوا دید کی خاطر جس کی وہ مرے دیدۂ حیرت سے نکلتا کیسے اس کے دم ہی سے تو قائم ہے مرا جاہ و جلال وہ مرے دل کی حکومت سے نکلتا کیسے جاگ بیٹھا ہوں تو دل ڈوبا نہیں ہے اخترؔ سویا رہتا تو مصیبت سے نکلتا کیسے

— اختر شمار