سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
یوں کوئی چھوڑ دیا کرتا ھے اپنا کر کے
یوں کوئی چھوڑ دیا کرتا ھے اپنا کر کے تم نے تو مار دیا ھے مجھے تنہا کر کے اک نظر ڈال کبھی میرے مسیحا مجھ پر تیرا کیا جائے گا بیمار کو اچھا کر کے اے محبت کے مراحل سے گزرنے والے تو نے آنسو بھی دیکھا ھے ستارا کر کے میں بہت جلد بھنور میں تجھے یاد آؤں گا اتنا خوش باش نہ رہ مجھ سے کنارا کر کے
حصار قریۂ آزار سے نکلتے ہوئے
حصار قریۂ آزار سے نکلتے ہوئے یہ دل ملول تھا آزار سے نکلتے ہوئے بڑی ہی دیر تلک دھوپ مجھ کو چھو نہ سکی تمہارے سایۂ دیوار سے نکلتے ہوئے کہ پھر سے تخت کو آنا تھا میرے قدموں میں میں پر یقین تھا دربار سے نکلتے ہوئے شعاع نور کے پھوٹے سے جاں لرزتی تھی تمہاری گرمئ رخسار سے نکلتے ہوئے تمہارے دھیان میں گم ہو گئی تھی مہکی ہوا حدود جادۂ گلزار سے نکلتے ہوئے میں لوٹ آیا تجھے چھوڑ کر مگر آدھا وہیں رہا در و دیوار سے نکلتے ہوئے فضا میں دیر تلک خوب جگمگاتے شمارؔ وہ لفظ شوخئ گفتار سے نکلتے ہوئے
میرے دل سے سلوک ایسا ہی ہونا چاہیے تھا
میرے دل سے سلوک ایسا ہی ہونا چاہیے تھا اسے بھی توڑنے کو اک کھلونا چاہئیے تھا کہاں یہ کونے کونے میں لیے پھرتی ہے گردش مجھے تو بیٹھنے کو اک کونا چاہئیے تھا کہاں ہیں وہ مرے احباب آخر سب کہاں ہیں انہیں مشکل میں میرے ساتھ ہونا چاہئے تھا میں جان کیوں وارنے میں اس قدر پیچھے رہا تھا محبت میں میرا بھی نام ہونا چاہیئے تھا یہ ممکن ہے وہ جانے کا ارادہ چھوڑ دیتا مجھے اس سے لپٹ کر ایسے رونا چاہیے تھا وہ آتا یا نہ آتا خواب میں وعدے مطابق مجھے لیکن شمار اس رات سونا چاہیے تھا