اختر شمار

تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار

17 April 2026

11سپیکرز
139لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

یوں کوئی چھوڑ دیا کرتا ھے اپنا کر کے

یوں کوئی چھوڑ دیا کرتا ھے اپنا کر کے تم نے تو مار دیا ھے مجھے تنہا کر کے اک نظر ڈال کبھی میرے مسیحا مجھ پر تیرا کیا جائے گا بیمار کو اچھا کر کے اے محبت کے مراحل سے گزرنے والے تو نے آنسو بھی دیکھا ھے ستارا کر کے میں بہت جلد بھنور میں تجھے یاد آؤں گا اتنا خوش باش نہ رہ مجھ سے کنارا کر کے

— اختر شمار

حصار قریۂ آزار سے نکلتے ہوئے

حصار قریۂ آزار سے نکلتے ہوئے یہ دل ملول تھا آزار سے نکلتے ہوئے بڑی ہی دیر تلک دھوپ مجھ کو چھو نہ سکی تمہارے سایۂ دیوار سے نکلتے ہوئے کہ پھر سے تخت کو آنا تھا میرے قدموں میں میں پر یقین تھا دربار سے نکلتے ہوئے شعاع نور کے پھوٹے سے جاں لرزتی تھی تمہاری گرمئ رخسار سے نکلتے ہوئے تمہارے دھیان میں گم ہو گئی تھی مہکی ہوا حدود جادۂ گلزار سے نکلتے ہوئے میں لوٹ آیا تجھے چھوڑ کر مگر آدھا وہیں رہا در و دیوار سے نکلتے ہوئے فضا میں دیر تلک خوب جگمگاتے شمارؔ وہ لفظ شوخئ گفتار سے نکلتے ہوئے

— اختر شمار

میرے دل سے سلوک ایسا ہی ہونا چاہیے تھا

میرے دل سے سلوک ایسا ہی ہونا چاہیے تھا اسے بھی توڑنے کو اک کھلونا چاہئیے تھا کہاں یہ کونے کونے میں لیے پھرتی ہے گردش مجھے تو بیٹھنے کو اک کونا چاہئیے تھا کہاں ہیں وہ مرے احباب آخر سب کہاں ہیں انہیں مشکل میں میرے ساتھ ہونا چاہئے تھا میں جان کیوں وارنے میں اس قدر پیچھے رہا تھا محبت میں میرا بھی نام ہونا چاہیئے تھا یہ ممکن ہے وہ جانے کا ارادہ چھوڑ دیتا مجھے اس سے لپٹ کر ایسے رونا چاہیے تھا وہ آتا یا نہ آتا خواب میں وعدے مطابق مجھے لیکن شمار اس رات سونا چاہیے تھا

— اختر شمار