اختر شمار

تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار

17 April 2026

11سپیکرز
139لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

اے دنیا تیرے رستے سے ہٹ جائیں گے

اے دنیا تیرے رستے سے ہٹ جائیں گے آخر ہم بھی اپنے سامنے ڈٹ جائیں گے ہم خود کو آباد کریں گے اپنے دل میں تیرے آنکھ جزیرے سے اب کٹ جائیں گے دھند سے پار بھی کام کریں گی اپنی نظریں آنکھ کے سامنے سے یہ بادل چھٹ جائیں گے آخر ڈھل جائے گا ''جیون روگ'' کا سورج ہم بھی ''اوکھے دن'' ہیں لیکن کٹ جائیں گے لوگ ہمیں محسوس کریں گے پھول اور تارے اور ہم سوچتی ''دل آنکھوں'' میں بٹ جائیں گے دیکھنا ایسی رات بھی آئے گی جب اخترؔ دھیرے دھیرے ہم تاروں سے اٹ جائیں گے

— اختر شمار