اختر شمار

تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار

17 April 2026

11سپیکرز
139لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

جد وی اُس دربارے گئے سی

جد وی اُس دربارے گئے سی کُجھ جُرمانے تارے گئے سی اوہدے سامنے کُجھ تے دسّو سَنگیو! کِنج گزارے گئے سی وحشی نیھری دے وِچ ساڈے ہتھوں یار کِنارے گئے سی انّھی راتیں کُجھ نئیں دِسیا کون تے کِتھے مارے گئے سی جنّے اوکھے کم سی ایتھے لہو دے نال سنوارے گئے سی ایدکی مَن دے کوہجیاں اُتّوں چّن دے ٹوٹے وارے گئے سی ہنجُو سانبھ لیائے اخترؔ خالی اَکھ بَزارے گئے سی

— اختر شمار

پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے

پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے کئی ستارے ملے اس گلی میں بکھرے ہوئے مری کہانی سے پہلے ہی جان لے پیارے کہ حادثے ہیں مری زندگی میں بکھرے ہوئے دھنک سی آنکھ کہے بانسری کی لے میں مجھے ستارے ڈھونڈ کے لا نغمگی میں بکھرے ہوئے میں پر سکون رہوں جھیل کی طرح یعنی کسی خیال کسی خامشی میں بکھرے ہوئے وہ مسکرا کے کوئی بات کر رہا تھا شمارؔ اور اس کے لفظ بھی تھے چاندنی میں بکھرے ہوئے

— اختر شمار

اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں

اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں چار دن رہ گئے میلے میں مگر اب کے بھی اس نے آنے کے لیے خط میں لکھا کچھ بھی نہیں کل بچھڑنا ہے تو پھر عہد وفا سوچ کے باندھ ابھی آغاز محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلا کچھ بھی نہیں اے شمارؔ آنکھیں اسی طرح بچھائے رکھنا جانے کس وقت وہ آ جائے پتا کچھ بھی نہیں

— اختر شمار